
خلیج اردو
ابوظہبی:متحدہ عرب امارات کے کئی اسکولوں نے نئے تعلیمی سال سے قبل والدین کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے ٹرالی بیگز نہ خریدیں۔ یہ اقدام بچوں کی صحت، حفاظت اور عملی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
گرمیوں کی تعطیلات کے دوران والدین نے ابھی اسکول شاپنگ شروع بھی نہیں کی تھی کہ کچھ اسکولوں کی جانب سے سرکلرز موصول ہوئے جن میں بیگ کے انتخاب پر نظرِ ثانی کی ہدایت دی گئی۔
تعلیمی ماہرین اور ڈاکٹرز نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ سہولت یا فیشن کے بجائے بچوں کی صحت اور حفاظت کو ترجیح دیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ بیگز سے متعلق ہدایات دی گئی ہوں۔ گزشتہ برس اگست میں ابوظہبی کی انتظامیہ نے اسکولوں کو یاد دہانی کرائی تھی کہ بچوں کا بیگ ان کے جسمانی وزن کے 20 فیصد سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے بعد متحدہ عرب امارات کے کئی اسکولوں نے ہلکے بیگ کی پالیسی اور عمر کے لحاظ سے وزن کی حد مقرر کی تاکہ بچوں کے جسم پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
صحت پہلے، سہولت بعد میں
وڈلم اسکولز کے منیجنگ ڈائریکٹر نوفل احمد کے مطابق:
"ٹرالی بیگز پر پابندی طلبہ کی صحت و سلامتی کے پیشِ نظر کی گئی ہے۔ یہ قدم طالب علموں کی فلاح کے لیے ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ٹرالی بیگز گھسیٹنے سے جسمانی دباؤ بڑھتا ہے، سیڑھیوں پر پھسلنے کا خطرہ ہوتا ہے، شور بھی پیدا ہوتا ہے، اور کلاس روم میں جگہ گھیرنے کی وجہ سے دیگر بچوں کو بھی ٹھوکر لگنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بیگز کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے اسکول نے "برنگ یور اون ڈیوائس” (BYOD) پالیسی اور ای-لرننگ کو فروغ دیا ہے، اور طلبہ کو صرف ضروری اشیاء لے کر آنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
عمر کے لحاظ سے مختلف پالیسی
ابوظہبی کے شائننگ اسٹار انٹرنیشنل اسکول نے عمر کے لحاظ سے الگ پالیسی اپنائی ہے۔
اسکول کے مطابق، فاؤنڈیشن اسٹیج اور اپر پرائمری کے طلبہ کے کندھے ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوتے، اس لیے ان کے لیے ٹرالی بیگز مناسب ہیں۔ تاہم مڈل اور سینئر اسکول طلبہ کے لیے بیک پیک بہتر ہے۔ اسکول نے ہدایت دی ہے کہ طلبہ اپنے بیگ وقتِ جدول کے مطابق تیار کریں تاکہ اس کا وزن 8 کلوگرام سے زیادہ نہ ہو۔
چوٹ لگنے کے خطرات
متحدہ عرب امارات کے طبی ماہرین بھی ٹرالی بیگز پر تشویش کا اظہار کر چکے ہیں۔
میڈ کیئر رائل اسپیشیلٹی ہسپتال کے کنسلٹنٹ پیڈیٹریشن ڈاکٹر عمر الزواہری کے مطابق:
"اگرچہ ٹرالی بیگز کمر پر دباؤ کم کرتے ہیں، لیکن یہ مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ ان سے پھسلنے یا ٹھوکر لگنے کا خطرہ رہتا ہے، اور انہیں سیڑھیاں یا فٹ پاتھ پر اٹھا کر لے جانا پڑتا ہے، جو بچوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔”
انہوں نے تجویز دی کہ صرف صحیح بیگ کا انتخاب کافی نہیں، بلکہ بیگ کا وزن کم رکھنا، لاکرز کا استعمال، ڈیجیٹل کتب اور ہلکی اشیاء کو ترجیح دینا بھی ضروری ہے۔
این ایم سی رائل ہسپتال کی پیڈیاٹرک کنسلٹنٹ ڈاکٹر ملیحہ رفیق نے کہا کہ ٹرالی بیگز کے غلط استعمال سے عضلاتی مسائل، چلنے کے انداز میں تبدیلی، اور ریڑھ کی ہڈی پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا:
"بچے اکثر ان بیگز کو غلط طریقے سے استعمال کرتے ہیں، جس سے جسم کے مختلف حصوں پر یکطرفہ دباؤ پڑتا ہے۔”
ان کے مطابق، ٹرالی بیگز کا بڑا سائز کلاس روم اور بسوں میں رکھنے میں دشواری پیدا کرتا ہے، جبکہ ان کے پہیے شور بھی پیدا کرتے ہیں جو دیگر طلبہ کی توجہ بٹاتے ہیں۔







