
خلیج اردو
کراچی:معروف ہدایت کار ندیم بیگ نے انکشاف کیا ہے کہ ڈراما ’عشق مرشد‘ کی زبردست کامیابی کے بعد اداکار بلال عباس خان نئے پروجیکٹ کے انتخاب میں خاصے محتاط ہو گئے تھے، اور وہ ابتدا میں ان کے نئے ڈرامے ’میری زندگی ہے تو‘ میں کام کرنے سے ہچکچا رہے تھے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ندیم بیگ نے بتایا کہ ان کا فلموں سے لگاؤ طالب علمی کے دور سے ہے، تاہم پاکستان میں فلم کے بجائے ڈرامہ انڈسٹری فعال ہونے کے باعث انہوں نے کیریئر کا آغاز ڈراما سازی سے کیا۔ ان کے بقول ڈراموں سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا، مگر ان کا اصل شوق فلم سازی ہی رہا ہے۔
ڈراما سیریل ’میں منٹو نہیں ہوں‘ سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ کہانی انا، نفرت اور خودداری جیسے موضوعات پر مبنی ہے، اور یہ دکھاتی ہے کہ بعض اوقات انسان اپنی ضد یا موقف پر قائم رہ کر نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی زندگی بھی برباد کر دیتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منٹو کے مرکزی کردار کو ایک ایسے انداز میں پیش کیا گیا ہے جو ناظرین کو یہ پیغام دے گا کہ ایک مرد بھی مہربان ہو سکتا ہے۔
ندیم بیگ نے اپنے ایک اور آنے والے ڈرامے ’میری زندگی ہے تو‘ کا بھی ذکر کیا جس میں بلال عباس اور ہانیہ عامر مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’عشق مرشد‘ کی کامیابی کے بعد بلال عباس اس نئے پراجیکٹ میں کام کرنے کے لیے کچھ تذبذب کا شکار تھے، لیکن انہوں نے انہیں اس بات پر قائل کیا کہ اس بار ان کا کردار سابقہ کرداروں سے بالکل مختلف اور منفرد ہو گا۔
انہوں نے بتایا کہ ’میری زندگی ہے تو‘ کی کہانی میں تلخی اور شیرینی دونوں شامل ہیں اور اس میں رومانوی رنگ نمایاں ہو گا۔






