متحدہ عرب امارات

متحدہ عرب امارات میں اس سال گرمی معمول سے زیادہ شدید رہنے کا امکان، موسمِ گرما وقت سے پہلے دستک دے چکا ہے

خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں اس سال موسمِ گرما گزشتہ برسوں کے مقابلے میں زیادہ گرم رہنے کا امکان ہے۔ نیشنل سینٹر آف میٹرولوجی کے ماہر موسمیات ڈاکٹر احمد حبیب کے مطابق ملک میں گرمی کی شدت معمول سے پہلے محسوس کی جا رہی ہے اور موسمِ گرما اپنی روایتی تاریخ سے قبل ہی اثرات دکھا رہا ہے۔

ڈاکٹر احمد حبیب نے بتایا کہ اگرچہ موسمِ گرما سرکاری طور پر 21 جون سے شروع ہوتا ہے، تاہم خطے میں گرمی کی صورتحال پہلے ہی موسمِ گرما جیسی ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ درجہ حرارت وہی ہے جو عموماً گرمیوں کے دوران ریکارڈ کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورا خطہ اس وقت "ایل نینو” موسمیاتی مظہر کے زیرِ اثر ہے، جس کی ایک اہم خصوصیت درجہ حرارت میں اضافہ ہے۔ اگر گرم ہوائی لہریں متحدہ عرب امارات کا رخ کرتی رہیں تو درجہ حرارت مزید بڑھ سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق بھارتی مون سون نظام سے منسلک تھرمل لو پریشر جنوبی امارات کی جانب گرم ہوائیں دھکیل رہا ہے، جس کے باعث کئی علاقوں میں درجہ حرارت 47 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ رہا ہے۔

ڈاکٹر احمد حبیب نے وضاحت کی کہ اس وقت شمال مغربی سمت سے آنے والی خشک ہوائیں فضا میں نمی کم کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں بادل بننے کے امکانات محدود ہو گئے ہیں۔ اسی وجہ سے آئندہ ایک سے دو ہفتوں کے دوران بارش کا کوئی واضح امکان نظر نہیں آ رہا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اگرچہ گرمیوں میں مشرقی اور پہاڑی علاقوں میں بارشیں ہونا معمول کی بات ہے، تاہم موجودہ موسمی حالات بادلوں کی تشکیل کے لیے سازگار نہیں ہیں۔

ماہر موسمیات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں گرمیوں کی بارشوں کا اہم دورانیہ عموماً جولائی کے وسط سے اگست کے وسط تک ہوتا ہے۔ اس دوران بحیرہ عرب اور بحیرہ عمان سے نمی آنے کے باعث مشرقی علاقوں اور لیوا ریجن میں بارش برسانے والے بادل بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button