متحدہ عرب امارات

یو اے ای کا بچوں کے لیے ڈیجیٹل تحفظ قانون: خاندانوں، نوجوانوں اور ٹیک پلیٹ فارمز کے لیے کیا بدلا؟

خلیج اردو
یو اے ای میں بچوں کے لیے آن لائن دنیا اب پہلے جیسی نہیں رہے گی۔ نئے چائلڈ ڈیجیٹل سیفٹی قانون کے تحت گیمز، سوشل میڈیا اور ویڈیو پلیٹ فارمز کو بچوں کے لیے مختلف اور محفوظ انداز میں کام کرنا ہوگا۔
خلیج اردو

قانونی ماہرین کے مطابق یہ قانون نقصان ہونے کے بعد کارروائی کے بجائے ابتدا ہی میں تحفظ پر زور دیتا ہے، اور ذمہ داری بچوں یا والدین کے بجائے ڈیجیٹل نظام پر عائد کرتا ہے۔

یو اے ای کے قانونی ماہر ہشام الرفاعی کے مطابق، "اس قانون کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ سزا کے بجائے بچاؤ پر توجہ دیتا ہے، دیگر قوانین نقصان کے بعد حرکت میں آتے تھے، جبکہ یہ قانون پہلے مداخلت کرتا ہے”۔

نئے فریم ورک کے تحت 18 سال سے کم عمر بچوں کو آن لائن وہی ماحول فراہم نہیں کیا جا سکتا جو بڑوں کے لیے ہوتا ہے۔ پلیٹ فارمز کو عمر کے مطابق مواد، فیچرز اور تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔

ہشام الرفاعی نے کہا، "یو اے ای میں 18 سال سے کم عمر بچے یا نوجوان اگر روبلوکس، یوٹیوب یا ٹک ٹاک استعمال کر رہے ہیں تو انہیں بالغ صارفین سے مختلف انداز میں ٹریٹ کیا جانا ہوگا”۔

قانون کے تحت بچوں کے ڈیٹا کے استعمال پر بھی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
انہوں نے واضح کیا، "بچوں کے ڈیٹا کو اشتہارات یا انہیں متاثر کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، جبکہ جوا، شرط یا مالی نوعیت کے گیم فیچرز بچوں کے لیے مکمل طور پر ممنوع ہوں گے”۔

قانون میں نقصان دہ مواد کی تعریف بھی وسیع کر دی گئی ہے۔ اب صرف غیر اخلاقی یا غیر قانونی مواد ہی نہیں بلکہ وہ ہر ڈیجیٹل مواد نقصان دہ تصور ہوگا جو بچے کی اخلاقی، نفسیاتی یا سماجی صحت پر منفی اثر ڈالے۔

قانونی مشیر ہند المہیری کے مطابق، "مواد کا جائزہ بالغ کے بجائے بچے کے نقطۂ نظر سے لیا جائے گا، اور ضروری نہیں کہ وہ مواد کھلم کھلا غیر اخلاقی یا غیر قانونی ہو”۔

والدین کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قانون انہیں سزا دینے کے لیے نہیں بلکہ سپورٹ کرنے کے لیے ہے۔
ہشام الرفاعی کے مطابق، "والدین پر کوئی جرمانہ یا سزا عائد نہیں کی گئی، ذمہ داری پلیٹ فارمز اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والوں پر ہے”۔

بچوں اور نوجوانوں کے لیے تبدیلیاں بتدریج ہوں گی۔ کم عمر بچوں کو سخت فلٹرنگ اور محدود رابطے کی سہولت ملے گی، جبکہ 13 سے 17 سال کے نوجوانوں کو مخصوص حدود میں آزادی دی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق ٹیک کمپنیوں کے لیے یہ قانون سب سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ اب بچوں کے تحفظ سے متعلق اقدامات صرف پالیسی نہیں بلکہ قانونی ذمہ داری بن چکے ہیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں انتباہ، جرمانے یا حتیٰ کہ سروس کی معطلی بھی ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button