متحدہ عرب امارات

امریکا نے ایرانی بندرگاہوں پر بحری پابندیاں ختم کر دیں، آبنائے ہرمز کھولنے پر پیش رفت، ایرانی سپریم لیڈر نے مفاہمتی یادداشت پر مختلف رائے کا اظہار کیا

خلیج اردو
امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے پر باضابطہ دستخط سے ایک روز قبل دونوں ممالک کے صدور نے جنگ کے خاتمے کے لیے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے بعد خطے میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

20 سے 25 الفاظ پر مشتمل مختصر تعارف:
مفاہمتی یادداشت کے بعد امریکا نے ایرانی بندرگاہوں سے بحری پابندیاں ہٹا دیں جبکہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنے کے اقدامات شروع ہو گئے۔

معاہدے کے تحت ایران نے اعلان کیا ہے کہ 60 روز بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے فیس وصول کی جائے گی، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں میں داخل ہونے اور وہاں سے نکلنے والے تمام جہازوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کر دی ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک غیر معمولی تحریری بیان میں کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے ان کا نقطہ نظر مختلف تھا، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ خطے میں تعینات امریکی فوجی دستوں کو تنازع سے پہلے کی سطح تک واپس لایا جائے گا۔ انہوں نے لبنان میں جنگ بندی کے باوجود جاری حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ایران کے ساتھ جاری امن عمل کا احترام کرے۔ جے ڈی وینس کے مطابق بیروت پر حملے "ناقابل قبول” ہیں۔

ادھر ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو تیز رفتار اجازت نامے جاری کیے جائیں گے تاکہ بحری آمدورفت معمول پر آ سکے۔ کونسل کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت بارودی سرنگوں کی صفائی کے اقدامات بھی کیے جائیں گے، تاہم جہازوں کو مقررہ راستوں اور اوقات کار کی پابندی کرنا ہوگی۔

معاہدے کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ وال اسٹریٹ میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور اہم حصص بازاروں میں بہتری ریکارڈ کی گئی۔

دریں اثنا متحدہ عرب امارات کی وفاقی اتھارٹی برائے شناخت، شہریت، کسٹمز اور بندرگاہی سلامتی نے علاقائی فضائی پروازوں کی معطلی سے متاثرہ افراد کے لیے 30 روزہ رعایتی مدت کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ اپنی قانونی حیثیت درست کر سکیں یا جرمانے کے بغیر ملک چھوڑ سکیں۔

یہ پیش رفت کئی ماہ سے جاری علاقائی کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم سمجھی جا رہی ہے، جبکہ دنیا کی نظریں سوئٹزرلینڈ میں ہونے والی باضابطہ دستخطی تقریب پر مرکوز ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button