
خلیج اردو آن لائن:
متحدہ عرب امارات کی رہائشی ایک اور ماں کی اپنی بیٹی کی زندگی بچانے کے لیے درکار علاج میں مدد کے لیے سوشل میڈیا پر متحدہ عرب امارات کے رہنماؤں سے اپیل۔
متحدہ عرب امارات کی رہائشی مریم علی کی جانب سے مدد کی درخواست پر مبنی ویڈیو اس وقت جاری کی گئی ہے جب دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم پہلے ہی ایک عراقی بچی لاوین کے علاج کے لیے بھاری رقم ادا کر چکے ہیں۔
16 مہینوں کی عائشہ حسن ابراہیم بھی عراقی بچی لاوین کی طرح ریڑھ کی ہڈی کے پٹھوں کے عدم نمو کی بیماری (ایس ایم اے ) میں مبتلا ہے۔ لیکن عائشہ کی صحت لاوین سے زیادہ خراب ہے اور وہ اس وقت دبئی کے ایک ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں ہے۔
گزشتہ ہفتے عائشہ کی ماں کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں اسے آئی سی یو میں سانس کی نالیاں لگے سوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
نجی خبررساں ادارے خلیج ٹائمز سے بات کرتے ہوئے عائشہ کی ماں مریم نے بتایا کہ اس کی بیٹی کی بیماری پہلے ہی اتنی بڑھ چکی ہے اب اس کے پٹھے سوج رہے ہیں اور اسکو سانس لینے میں دشواری کا سامنا ہے۔
مریم نے بتایا کہ وہ میڈیکل ٹیم کی مدد سے سانس لے رہی ہے لیکن ابھی اسے مصنوعی سانس کی مشین نہیں لگائی گئی ہے۔ لیکن ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر اسے مصنوعی سانس کی مشین لگا دی گئی تو پھر اسے زندگی بچانے والی دوائی نہیں دی جا سکے گی۔
عائشہ جس نایاب بیماری میں مبتلا ہے اس کے علاج کے لیے 8 ملین درہم درکاری ہیں۔ لیکن مصری خاندان اتنی رقم ادا کرنے کے قابل نہیں ہے۔
اس لیے متاثرہ بچی کی ماں نے ایک ویڈیو بنا کر دبئی کے حکمران اور یو اے ای وزیر اعظم و نائب صدر شیخ محمد بن راشد المکتوم اور ابوظہبی کے ولی عہد محمد بن زید النہیان سے مدد کی درخواست کی ہے۔
I’m Aisha, suffering from SMA. My condition is deteriorating and I’m now fighting for my life. I’m in desperate need for the Zolgensma therapy. We are not able to afford this. Please help me by retweeting. #Grant_Aisha_A_Life @HHShkMohd @MohamedBinZayed @HamdanMohammed @dubaitv pic.twitter.com/IsycJyfuTD
— Aisha Hassan Ibrahim (@AishaHassanIbr3) March 7, 2021
ویڈیو میں مریم یو اے ای کا رہائشی ہونے پر اللہ کا شکر ادا کرتی ہوئی دیکھائی دیتی ہیں اور وہ کہتی ہیں اگرچہ اس کی بیٹی کو زندگی بچانے والے علاج کی ضرورت ہے لیکن وہ پھر بھی ہر شے کے لیے اللہ کی شکر گزار ہے۔
خیال رہے کہ متاثرہ بچی اور اسکے والدین عجمان کے رہائشی ہیں۔ اور عائشہ کا 4 مارچ تک گھر میں علاج کیا جا رہا تھا۔ لیکن چار مارچ کو اسکی حالت بگڑنے پر اسے ہسپتال لایا گیا تو ڈاکٹروں نے اسے آئی سی یو میں داخل کر دیا۔
عائشہ کو اس بیماری سے صحت یاب ہونے کے لیے جین تھیراپی کی ضرورت ہے، جو کہ ایک مہنگا علاج ہے۔
Source: Khaleej Times







