Uncategorized

منتخب وزیر اعظم ہوں ، کس کی مجال جو مجھ سے استعفی طلب کرنے کی ہمت کرے، خان

خلیج اردو

یکم اکتوبر 2020

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جمہوری وزیراعظم ہوں کس کی جرات ہے کہ مجھ سے استعفیٰ مانگے۔اگر مجھ سے ڈی جی آئی ایس آئی استعفیٰ مانگتا تومیں فارغ کردیتا۔

جی ٹی وی سماء نیوز کو انٹریو دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ماضی میں اگر کسی نے غلطی کی تو کیا ہم آرمی کو گالیاں دیتے رہیں۔ اب پاکستانی فوج بدل گئی،موجودہ حکومت اور پاک فوج کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں۔

 

وزیر اعظم نے کہا کہ نوازشریف کو ہمیشہ افواج پاکستان کے ساتھ مسئلہ رہا کیونکہ آئی ایس آئی ان کی چوری پکڑ لیتی ہے۔ نوازشریف جس فوج کو گالیاں دے رہے ہیں اسی کے سہارے یہ سیاست میں آئے تھے۔ ان لوگو ں نے عدالتوں پر حملے کیے اور عدلیہ کو بلیک میل کیا۔

 

اینکر پرسن ندیم ملک کے سوال پر وزیراعظم نے کہا کہ نوازشریف کہتے ہیں کہ مجھے آئی ایس آئی کے سربراہ نے کہا کہ استعفیٰ دو ۔ اسے یہ کہتے ہوئے شرم بھی نہیں آتی۔اگر مجھے میرا ماتحت افسر ایسا کہتا تو میں اسی وقت فارغ کر دیتا۔

 

مسٹر خان نے کہا کہ ادھر یہ کہتے ہیں کہ مشرف نے میرے کہنے کے بغیر حملہ کیا ، اگرمیر ے کہنے کے بغیر آرمی چیف ایسا کرتا تو اسی وقت فارغ کردیتا۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف پاکستان کے ساتھ خطرناک کھیل کھیل رہا ہے، یہی کھیل الطاف حسین نے بھی کھیلا تھا۔

 

کپتان نے دعویٰ کیا کہ بھارت نوازشریف کی مدد کررہاہے۔کیونکہ بھارت پاکستان میں فساد پھیلانا چاہتا ہے۔ اگر پاک فوج نہ ہوتی پاکستان کے تین ٹکڑے ہوچکے ہوتے۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ لوگ مجھ پر دباﺅ ڈال کر این آراو لینا چاہتے ہیں ،میں اقتدار چھوڑ دوں گا لیکن ان کو این آرو نہیں دوں گا۔ نوازشریف جھوٹ بول کر باہر گئے،ہمیں تو یہ بتایا گیا تھا کہ اگر علاج کے لیے باہر نہ بھیجا گیا تو یہ کسی بھی وقت مرسکتا ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button