
خلیج اردو
متحدہ عرب امارات میں رمضان المبارک کے دوران نجی شعبے کے ملازمین کے یومیہ اوقاتِ کار میں دو گھنٹے کمی کے فیصلے کو شہریوں کی جانب سے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔
Ministry of Human Resources and Emiratisation کے مطابق 12 فروری کو کیے گئے اعلان کے تحت ملک بھر کی تمام نجی کمپنیوں میں رمضان کے دوران ملازمین کم دورانیے کے ساتھ کام کریں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کو کاروباری نوعیت کے مطابق فلیکسیبل ورکنگ آورز یا ریموٹ ورک کی سہولت فراہم کرنے کی بھی اجازت ہوگی تاکہ ملازمین کام، عبادت اور گھریلو زندگی میں توازن قائم رکھ سکیں۔
ورکنگ مدر لیلیٰ احمد کے مطابق "مختصر اوقاتِ کار سے ہمیں بطور خاندان زیادہ وقت ایک ساتھ گزارنے کا موقع ملے گا اور ہم افطار اور مذہبی ذمہ داریوں پر بہتر توجہ دے سکیں گے”۔
ایک اور رہائشی نے کہا کہ "عام دنوں میں ہم ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی مختلف اوقات میں آ کر اکیلے کھانا کھاتے ہیں جو تکلیف دہ ہوتا ہے، مگر اب ہم روزانہ افطار اکٹھے کر سکیں گے”۔
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف ملازمین کی جسمانی اور ذہنی صحت کیلئے مفید ثابت ہوگا بلکہ رمضان کی روایات جیسے اجتماعی افطار، عبادات اور خاندانی میل جول کو بھی فروغ دے گا۔
مختصر اوقاتِ کار رمضان کے روحانی ماحول میں خاندانی ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔






