
خلیج اردو
اسلام آباد ہائیکورٹ میں آوارہ کتوں کے خاتمے اور نسل کشی کے خلاف کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ عدالت نے سی ڈی اے کو آوارہ کتوں کی ویکسینیشن یقینی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ اگر کتوں کو مارنے کے شواہد ملے تو ذمہ داران کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
عدالت نے سی ڈی اے کے ڈائریکٹر میونسپل ایڈمنسٹریشن سے وضاحت طلب کرتے ہوئے انہیں ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ عدالت نے ہدایت دی کہ آوارہ کتوں سے متعلق 2020 کی پالیسی پر مکمل عمل کیا جائے۔
تحریری حکم نامے کے مطابق، کیس کی سنگینی کے باعث اسے 27 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ شہری کی جانب سے فریق بننے کی متفرق درخواست منظور کر لی گئی ہے۔
عدالتی حکم نامے میں کہا گیا کہ وکیلِ درخواست گزار کے مطابق حکام نے عدالت کو بتایا تھا کہ کتوں کو پکڑنے اور ویکسینیشن پر 19 ہزار روپے خرچ ہو رہے ہیں، مگر تصاویر سے واضح ہے کہ کتوں کو ہلاک کیا گیا۔
وکیل کے مطابق ہلاک شدہ کتے سی ڈی اے کی ملکیتی ٹرک میں پائے گئے، جس کی تصدیق عینی شاہد ڈاکٹر غنی اکرام نے عدالت میں پیش ہو کر کی۔ گواہ نے بیان دیا کہ ان کے پہنچنے پر سی ڈی اے ڈرائیور ہلاک کتوں کے ساتھ وہاں سے فرار ہو گیا۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 27 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ یہ درخواست شہری نیلوفر نے 2020 کی پالیسی پر عمل درآمد کے لیے دائر کر رکھی ہے۔






