
خلیج اردو
دبئی: اگر آپ اچانک کسی جرم جیسے ڈکیتی، حملہ یا اغوا کے واقعے کے قریب موجود ہوں تو سب سے پہلا ردعمل اکثر مداخلت کرنے کا ہوتا ہے، لیکن اماراتی وکیل اور قانونی مشیر احمد الزرعونی کے مطابق، یو اے ای کا قانون اس بات کو زیادہ اہمیت دیتا ہے کہ فوراً پولیس کو اطلاع دی جائے بجائے اس کے کہ اپنی جان خطرے میں ڈالی جائے۔
الزرعونی نے الخلیج اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کسی جرم کی بروقت رپورٹ کرنا نہ صرف شہری ذمہ داری ہے بلکہ قانوناً بھی لازم ہے۔ یو اے ای پینل کوڈ کے مطابق اگر کوئی شخص جرم سے آگاہ ہونے کے باوجود رپورٹ نہ کرے تو اسے ایک سال تک قید یا جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
جرم کی صورت میں کیا کریں؟
-
فوراً پولیس کو اطلاع دیں۔
-
وقت، جگہ اور مشتبہ افراد کے درست تفصیلات فراہم کریں۔
-
اپنی یا دوسروں کی جان کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات سے گریز کریں۔
-
اگر پولیس تک رسائی ممکن نہ ہو اور فوری خطرہ لاحق ہو تو کم سے کم مداخلت کی جا سکتی ہے۔
شواہد محفوظ رکھیں
انہوں نے زور دیا کہ جائے وقوعہ پر موجود شواہد کو نقصان نہ پہنچائیں۔ تصاویر، ویڈیوز یا مشاہدات پولیس کو براہ راست فراہم کریں اور سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے سے پرہیز کریں تاکہ تحقیقات متاثر نہ ہوں۔
گڈ سمارٹن قانون
پینل کوڈ کی آرٹیکل 55 کے مطابق نیک نیتی سے دی جانے والی ہنگامی طبی امداد یا مدد کرنے والوں کو قانونی تحفظ حاصل ہے، چاہے غیر ارادی طور پر نقصان کیوں نہ ہو۔
کب مداخلت کی اجازت ہے؟
عام شہریوں سے جسمانی تصادم کی توقع نہیں کی جاتی، البتہ دو صورتوں میں اجازت ہے:
-
اپنی یا دوسروں کی جان کے دفاع میں۔
-
کسی مشتبہ شخص کو جرم کے وقت روکنے میں۔
اس دوران استعمال کی جانے والی طاقت متناسب ہونی چاہیے۔
مہلک طاقت کے استثنیٰ
پینل کوڈ کی آرٹیکلز 58 اور 59 کے مطابق مخصوص اور نایاب صورتوں میں مہلک طاقت کا استعمال جائز ہے، جیسے اغوا، جنسی حملے یا رات کے وقت رہائشی مکان میں زبردستی داخل ہو کر حملے کی کوشش کو روکنے کے لیے۔ اس کے لیے شرط ہے کہ خطرہ فوری ہو اور ردعمل سختی سے ناگزیر ہو۔
نتیجہ
الزرعونی نے واضح کیا کہ سب سے محفوظ اور قانونی راستہ یہی ہے:
“سب سے پہلے پولیس کو کال کریں، اپنی اور دوسروں کی حفاظت کریں اور باقی کام حکام پر چھوڑ دیں۔






