
خلیج اردو
امریکی محکمہ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ یورپی یونین کے سابق کمشنر اور چار دیگر افراد کو ویزے جاری نہیں کرے گا، جن پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو اپنے مخالف خیالات سنسر کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ محکمہ خارجہ کے مطابق ان افراد اور تنظیموں نے غیر ملکی ریاستوں کی جانب سے سنسرشپ کو فروغ دیا، جس کا نشانہ امریکی مقررین اور امریکی کمپنیاں بنیں۔
اس اقدام کی زد میں یورپی کمیشن کے سابق اعلیٰ ٹیک ریگولیٹر تھیری بریٹن بھی شامل ہیں، جو یورپی یونین کے ڈیجیٹل قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے ایلون مسک سمیت متعدد ٹیک ارب پتیوں سے اختلافات کے باعث نمایاں رہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے تھیری بریٹن کو یورپی یونین کے ڈیجیٹل سروسز ایکٹ کا مرکزی معمار قرار دیا، جو یورپ میں کام کرنے والے بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مواد کی نگرانی اور دیگر ضوابط لاگو کرتا ہے۔
فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے اس فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یورپ اپنے ڈیجیٹل دائرہ کار کے قوانین کسی اور کے ہاتھوں مسلط نہیں ہونے دے سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل سروسز ایکٹ یورپ میں جمہوری طریقے سے منظور کیا گیا قانون ہے، جس کا امریکا پر کوئی اطلاق نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کا دائرہ اختیار یورپ سے باہر ہے۔
ڈیجیٹل سروسز ایکٹ امریکی قدامت پسند حلقوں کے لیے ایک متنازع نکتہ بن چکا ہے، جو اسے دائیں بازو کی آوازوں کے خلاف سنسرشپ کا ہتھیار قرار دیتے ہیں، تاہم یورپی یونین ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔ اس قانون کے تحت بڑے پلیٹ فارمز کو مواد ہٹانے کے فیصلوں کی وضاحت، صارفین کے لیے شفافیت اور محققین کو اہم ڈیٹا تک رسائی فراہم کرنا لازمی ہے، خاص طور پر بچوں کو نقصان دہ مواد سے بچانے کے تناظر میں۔
تھیری بریٹن، جو 2024 میں یورپی کمیشن سے الگ ہو چکے ہیں، نے اس فیصلے کو ایک انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے اسے امریکی تاریخ کے مکارتھی دور سے تشبیہ دی، جب مبینہ نظریاتی وابستگیوں پر سرکاری عہدیداروں کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سنسرشپ وہاں نہیں جہاں اس کا الزام لگایا جا رہا ہے۔
امریکا کی جانب سے یورپی قوانین پر تنقید میں اس وقت مزید شدت آئی جب حال ہی میں برسلز نے ایلون مسک کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اشتہاری شفافیت اور صارفین کی تصدیق کے ضوابط کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا۔ اس کے بعد واشنگٹن نے عندیہ دیا کہ یورپی کاروباری اداروں کو جوابی اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ویزہ پابندیوں کی فہرست میں سینٹر فار کاؤنٹرنگ ڈیجیٹل ہیٹ کے عمران احمد، جرمن تنظیم ہیٹ ایڈ کی اینا لینا فان ہوڈنبرگ اور جوزفین بالن، جبکہ برطانیہ کی گلوبل ڈس انفارمیشن انڈیکس کی سربراہ کلیئر میلفورڈ بھی شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ تنظیمیں ڈیجیٹل قوانین کے نفاذ میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
امریکا برطانیہ کے آن لائن سیفٹی ایکٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے، جو ڈیجیٹل سروسز ایکٹ سے ملتا جلتا قانون ہے۔ وائٹ ہاؤس نے حال ہی میں برطانیہ کے ساتھ ٹیکنالوجی تعاون کے ایک معاہدے پر عمل درآمد معطل کر دیا، جس کی وجہ برطانوی ٹیک قوانین پر اختلافات بتائی گئی۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکہ فرسٹ پالیسی امریکی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کو مسترد کرتی ہے، اور امریکی اظہارِ رائے کو نشانہ بنانے والی غیر ملکی سنسرشپ اس کی واضح مثال ہے۔






