
خلیج اردو
واشنگٹن: ایمیزون کے بانی جیف بیزوس کی دولت میں صرف ایک دن میں 10 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے، جو اوپن اے آئی کے ساتھ 38 ارب ڈالر مالیت کے کلاؤڈ کمپیوٹنگ معاہدے کے بعد ایمیزون کے حصص میں غیر معمولی اضافے کے باعث ممکن ہوا۔
پیر کے روز ایمیزون کے حصص کی قیمت 4.8 فیصد بڑھ کر 256.01 ڈالر پر بند ہوئی، جس سے کمپنی کی مجموعی مارکیٹ ویلیو میں تقریباً 140 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔ اس تیز رفتاری نے بیزوس کی دولت کو بڑھا کر تقریباً 282 ارب ڈالر تک پہنچا دیا، جس سے وہ دنیا کے تیسرے امیر ترین شخص کے طور پر برقرار ہیں۔ ان سے آگے صرف ایلون مسک اور برنارڈ آرنو ہیں۔
فوربز اور بلومبرگ کے مطابق بیزوس کے لیے یہ اپریل کے بعد سب سے بڑی یومیہ آمدنی ہے۔ وہ ایمیزون میں تقریباً 8.6 فیصد حصص رکھتے ہیں۔
یہ نیا معاہدہ ایمیزون ویب سروسز (AWS) کے ذریعے اوپن اے آئی کو بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت کے ڈھانچے فراہم کرے گا، جس میں 5 لاکھ سے زائد جدید چپس پر مشتمل کمپیوٹنگ کلسٹرز شامل ہیں۔ اس معاہدے سے ایمیزون کو مصنوعی ذہانت کی دوڑ میں نمایاں برتری حاصل ہونے کی توقع ہے۔
ایمیزون کی حالیہ سہ ماہی رپورٹ میں 180.2 ارب ڈالر کی آمدنی ظاہر کی گئی ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 12 فیصد زیادہ ہے۔ کمپنی نے فی حصص 1.95 ڈالر کا منافع کمایا، جو مارکیٹ توقعات سے کہیں بہتر رہا۔
ایمیزون کے سی ای او اینڈی جاسی نے نتائج کو AWS کی شاندار کارکردگی سے منسوب کیا، جس نے 33 ارب ڈالر کی فروخت کی — یعنی 20 فیصد سالانہ اضافہ۔ کمپنی نے 2025 تک 125 ارب ڈالر سرمایہ کاری کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ اپنے کلاؤڈ انفراسٹرکچر کو مزید وسعت دے سکے۔
اوپن اے آئی کے لیے یہ معاہدہ بھی اہم سنگِ میل ہے، کیونکہ اس نے مائیکروسافٹ کے ساتھ اپنی خصوصی وابستگی ختم کر کے اب کئی کلاؤڈ پارٹنرز سے تعاون بڑھایا ہے۔ مائیکروسافٹ کے ساتھ حالیہ معاہدے میں "رائٹ آف فرسٹ ریفیوزل” شق ختم کر دی گئی ہے، جس کے تحت اب اوپن اے آئی دوسرے فراہم کنندگان کے ساتھ آزادانہ طور پر شراکت کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایمیزون اور اوپن اے آئی کا یہ اشتراک نہ صرف مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ایک تاریخی سنگ میل ہے بلکہ عالمی ٹیکنالوجی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی دوڑ کو بھی نئی جہت دے گا۔






