
خلیج اردو
ڈھاکا: بنگلہ دیش نے پیر 21 جولائی کو پیش آنے والے ہولناک فضائی حادثے کے بعد منگل 22 جولائی کو یومِ سوگ قرار دے دیا۔ حادثے میں بنگلہ دیشی فضائیہ کا ایک جنگی طیارہ ڈھاکا کے دیاباری علاقے میں واقع مائل اسٹون اسکول اینڈ کالج کی عمارت سے جا ٹکرایا، جس کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد جاں بحق اور 170 سے زائد زخمی ہو گئے۔
حادثہ ملک کی تاریخ کا بدترین فضائی سانحہ قرار دیا جا رہا ہے، جس نے پورے ملک کو گہرے صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔
نگراں حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس نے سانحے پر "انتہائی دکھ اور افسوس” کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں انہوں نے اسے "ناقابلِ تلافی نقصان” قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا، "ایئر فورس، طلبہ، والدین، اساتذہ اور مائل اسٹون اسکول و کالج کے عملے کو جو نقصان پہنچا ہے، وہ ناقابلِ بیان ہے۔ یہ قوم کے لیے شدید کرب کا لمحہ ہے۔”
فوجی حکام کے مطابق طیارہ ایک معمول کی تربیتی پرواز پر تھا جب اسے "تکنیکی خرابی” کا سامنا کرنا پڑا۔ پائلٹ نے کوشش کی کہ آبادی والے علاقے سے طیارے کو دور لے جائے، لیکن تمام تر کوششوں کے باوجود طیارہ اسکول کی دو منزلہ عمارت سے ٹکرا گیا۔
اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ یہ حادثہ 1984 کے بعد بنگلہ دیش کی فضائی تاریخ کا مہلک ترین سانحہ قرار دیا جا رہا ہے، جب چٹاگانگ سے ڈھاکا آنے والی ایک پرواز میں 49 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
حادثے پر خطے کے کئی رہنماؤں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "بھارت، بنگلہ دیش کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔”
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
"ڈھاکا کے مائل اسٹون اسکول میں ہونے والے طیارہ حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دل گرفتہ ہوں، خاص طور پر ان بچوں کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتا ہوں جو اس سانحے کا شکار ہوئے۔ پاکستان، ان مشکل لمحات میں بنگلہ دیش کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔







