
خلیج اردو
استنبول / تہران، 23 جون 2025ء
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکا کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر کیے گئے فضائی حملے کو "ناقابلِ معافی جرم” قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایرانی عوام کے دفاع اور ملکی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ استنبول میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ ان حملوں کے تباہ کن نتائج ہوں گے، اور اب ان تمام نتائج کی مکمل ذمہ داری امریکا پر عائد ہوگی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے اور اپنی آزادی و خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی حملے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں، اور عالمی برادری کو ان حملوں پر فوری ردعمل دینا چاہیے۔ ایران نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امریکی جارحیت کی مذمت کرے اور اس سلسلے میں ایک ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران پہلے ہی مذاکرات کی میز پر موجود تھا مگر صدر ٹرمپ نے سفارتی عمل کو دھوکہ دیا۔ "یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امریکا اور اسرائیل صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں،” وزیر خارجہ نے کہا۔ انہوں نے امریکی صدر کی انتخابی مہم کے دوران دیے گئے ان بیانات کا حوالہ دیا جس میں ٹرمپ نے جنگوں کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا۔ "اب امریکا کا ایران کو سفارتکاری کی طرف آنے کا کہنا بے معنی ہو چکا ہے، کیونکہ اس نے اعتماد کی فضا کو خود تباہ کیا ہے۔”
ایرانی قیادت نے عالمی طاقتوں پر زور دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کو ایک نئی تباہ کن جنگ سے بچانے کے لیے فوری عملی اقدامات کریں۔






