
خلیج اردو
تہران:ایران پر اسرائیل کے فضائی اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جن کے نتیجے میں مزید دو افراد شہید اور پانچ زخمی ہو گئے ہیں، جبکہ تہران میں بچوں سمیت ہلاکتوں کی تعداد 60 تک جا پہنچی ہے۔ مجموعی طور پر شہدا کی تعداد 80 ہو گئی ہے اور 300 سے زائد افراد زخمی ہیں۔
ایرانی حکام نے مزید دو اعلیٰ فوجی کمانڈرز کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ شہدا میں ملٹری آپریشنز کے ڈپٹی چیف جنرل مہدی ربانی اور جنرل اسٹاف کے انٹیلیجنس چیف جنرل غلام رضا محرابی شامل ہیں۔ اسرائیلی حملوں میں مزید تین ایٹمی سائنسدان — علی کریمی، منصور اصغری اور سعید برجی — بھی شہید ہوئے ہیں۔
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق، اسرائیل نے تازہ حملے مشرقی آذربائیجان، لورستان اور کرمان شاہ صوبوں میں کیے، جہاں ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ تبریز سے دھوئیں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے تاہم تبریز آئل ریفائنری کو نقصان نہیں پہنچا۔ خرم آباد اور کرمان شاہ سے بھی دھماکوں کی آوازیں سنائی گئیں۔
اسرائیل نے مہرآباد ایئرپورٹ کو بھی نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران نے تہران اور مہرآباد ایئرپورٹس سے ہوائی جہازوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا۔ لورستان کے شہر اسد آباد میں دو افراد شہید اور پانچ زخمی ہوئے۔
ایرانی دفاعی ذرائع کے مطابق، ایران نے خرم آباد، کرمان شاہ اور تبریز میں ایک اور اسرائیلی ایف-35 لڑاکا طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ کئی ڈرونز اور میزائلوں کو بھی تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایرانی انٹیلی جنس نے ایک ڈرون سے بھرے ٹرک پر قبضہ کر لیا ہے، جسے ایران کے دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
مزید برآں، ایران کے شہر یزد میں پانچ افراد کو اسرائیل سے مبینہ تعاون کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق ان افراد پر جاسوسی اور حملوں میں معاونت کا الزام ہے۔






