
خلیج اردو
تل ابیب/تہران:اسرائیلی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف خفیہ اور منظم آپریشن "رائزنگ لائن” کی منصوبہ بندی کئی سال پہلے سے جاری تھی، جس میں مرکزی کردار اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کا تھا۔ اس انٹیلی جنس آپریشن کو حالیہ تاریخ کا سب سے بڑا اور خطرناک قرار دیا جا رہا ہے، جس میں ایران کی سرزمین پر جاسوسی اور حملوں کا مربوط نیٹ ورک قائم کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اسرائیلی کمانڈو یونٹس نے ایران کے اندر میزائل اسمگل کیے، جنہیں بعد میں جدید گائیڈڈ ہتھیاروں سے تبدیل کر دیا گیا۔ ان حملوں کے دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام کے متعدد حصے، جن میں SA-69، SA-71، SA-63 اور SA-68 شامل ہیں، تباہ کر دیے گئے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق تہران کے قریب موساد کا ایک خفیہ اڈا بھی قائم تھا جہاں سے ڈرون طیاروں کے ذریعے حملے کیے گئے۔ ان ڈرونز نے نہ صرف ایرانی میزائل لانچروں کو نشانہ بنایا بلکہ زمینی راکٹ لانچرز کے ذریعے بھی اہداف کو تباہ کیا گیا۔
مزید تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ پاسداران انقلاب کی فضائیہ کے کئی اعلیٰ افسران اس وقت شہید ہوئے جب وہ ایک زیرزمین کمانڈ سینٹر میں اجلاس کر رہے تھے۔ بعض حملے گاڑیوں کے دروازوں پر چپکنے والے بموں کے ذریعے کیے گئے جن میں اہم ایرانی کمانڈرز ہدف بنے۔
درجنوں دیگر اسٹریٹجک مقامات کو بھی اس انٹیلی جنس آپریشن میں نشانہ بنایا گیا، جس کا مقصد ایران کے دفاعی ڈھانچے کو مفلوج کرنا اور اہم شخصیات کو راستے سے ہٹانا تھا۔






