
خلیج اردو
دبئی: سلطنت عمان نے اپنے ثقافتی ویزے اور رہائشی نظام میں توسیع کرتے ہوئے غیر ملکی فنکاروں، ادیبوں اور تخلیقی ماہرین کے ساتھ ان کے اہلِ خانہ اور قریبی رشتہ داروں کو بھی شامل کر لیا ہے۔ یہ اقدام عمان کو خطے میں تخلیقی صنعتوں کے مرکز کے طور پر مستحکم کرنے کی حکومتی پالیسی کا حصہ ہے۔
عمان نیوز کے مطابق، مجاز حکام کے فیصلے کے تحت غیر ملکیوں کے داخلے اور قیام سے متعلق ضوابط میں کئی نئی ویزا اور رہائشی کیٹیگریز شامل کی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ 2023 میں متعارف کرائے گئے 10 سالہ ثقافتی ویزے کی توسیع ہے، جو بین الاقوامی ثقافتی تعاون کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔
نئے نظام کے مطابق:
ثقافتی ویزا اُن غیر ملکیوں کو دیا جائے گا جو عمان میں ثقافتی مقاصد کے لیے داخل ہوں، بشرطِ درخواست اور متعلقہ عمانی ثقافتی ادارے کی ذمہ داری پر۔ یہ ویزا اجراء کے تین ماہ کے اندر استعمال کرنا لازمی ہوگا۔
شمولیتی ویزا اُس غیر ملکی کے شریکِ حیات یا قریبی رشتہ داروں کو دیا جائے گا جو ثقافتی سرگرمیوں کے لیے عمان آئے ہوں۔
ثقافتی اقامتی اجازت نامہ اُن غیر ملکیوں کے لیے متعارف کرایا گیا ہے جو پہلے ہی ثقافتی سرگرمیوں کے لیے عمان میں موجود ہیں۔
شمولیتی اقامتی اجازت نامہ شریکِ حیات یا اہلِ خانہ کو دیا جائے گا جو شمولیتی ویزے کے ذریعے عمان میں داخل ہوئے ہوں۔
حکام کے مطابق اس پالیسی کا مقصد طویل المدتی ثقافتی تبادلے کو فروغ دینا اور عمان میں تخلیقی شعبوں میں کام کرنے والے غیر ملکی ماہرین اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے استحکام پیدا کرنا ہے۔
یہ اقدام "ویژن عمان 2040” کے اہداف سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد معیشت کو تیل کے بجائے ثقافت، ورثہ، سیاحت اور تخلیقی معیشت کے ذریعے متنوع بنانا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ عمان کو نہ صرف ثقافتی سیاحت کا مرکز بلکہ تخلیقی افراد، محققین اور فنکاروں کے لیے ایک مستقل مسکن بنانے کی سمت میں اہم قدم ہے۔







