
سیول: جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے سابق صدر یون سوک یول کو مارشل لا کے نفاذ اور اس کے بعد پیدا ہونے والے بحران سے متعلق مقدمات میں رکاوٹ ڈالنے اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے جرم میں پانچ سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ ان کے خلاف آنے والا پہلا فیصلہ ہے، جبکہ مزید مقدمات ابھی زیر سماعت ہیں۔
یہ سزا جمعہ کے روز سیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج بیک ڈے ہیون نے سنائی۔ عدالت نے قرار دیا کہ یون سوک یول نے تفتیش کاروں کو اپنی گرفتاری سے روکنے کے لیے صدارتی سیکیورٹی سروس کے اہلکاروں کو ریاست کے خلاف استعمال کیا اور انہیں ذاتی محافظوں کے طور پر اپنے مفادات کے لیے بروئے کار لایا۔
واضح رہے کہ 3 دسمبر 2024 کو سابق صدر کی جانب سے مختصر مدت کے لیے مارشل لا نافذ کیے جانے پر ملک بھر میں شدید عوامی احتجاج ہوا تھا، جبکہ پارلیمنٹ میں بھی سیاسی بحران پیدا ہو گیا تھا۔ بعد ازاں یون سوک یول کو اقتدار سے ہٹا دیا گیا۔
عدالت نے یہ بھی ثابت کیا کہ یون سوک یول نے مارشل لا کی منصوبہ بندی کے دوران کابینہ کے بعض ارکان کو اجلاس سے دانستہ طور پر خارج رکھا۔ جج کے مطابق، “ملزم پر بطور صدر آئین کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کی سب سے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی تھی، مگر اس کے برعکس اس نے آئین اور قانونی تقاضوں کو نظرانداز کیا۔”
عدالت نے تاہم سرکاری دستاویزات میں جعل سازی کے الزام سے انہیں شواہد کی کمی کے باعث بری کر دیا۔ یون سوک یول کو فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے سات دن کی مہلت دی گئی ہے۔
استغاثہ نے عدالت سے دس سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ سابق صدر نے مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے کوئی قانون نہیں توڑا۔ فیصلے کے بعد عدالت کے باہر موجود ان کے حامی چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گئے، بعد ازاں انہوں نے نعرے لگائے۔
یون سوک یول کے وکلا نے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ صدارتی آئینی اختیارات اور فوجداری ذمہ داری کے درمیان فرق کو نظرانداز کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ منطق برقرار رہی تو مستقبل میں کوئی صدر بحران کے وقت فیصلہ کن اقدام نہیں کر سکے گا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے جب ایک الگ مقدمے میں استغاثہ نے یون سوک یول کے خلاف بغاوت کا سرغنہ ہونے کے الزام میں سزائے موت کا مطالبہ بھی کر رکھا ہے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے آئینی نظام اور جمہوریت کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات پر کوئی ندامت ظاہر نہیں کی۔
اگرچہ جنوبی کوریا میں 1997 سے سزائے موت پر غیر اعلانیہ پابندی ہے، تاہم عدالت 19 فروری کو بغاوت کے الزامات پر اپنا فیصلہ سنانے والی ہے۔ سابق صدر پر دشمن کی مدد کے الزامات کے تحت ایک اور مقدمہ بھی چل رہا ہے، جس میں شمالی کوریا کی جانب ڈرون پروازوں کے احکامات دینے کا الزام شامل ہے۔
سابق صدر یون سوک یول نے عدالت میں ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ مارشل لا کا نفاذ بطور صدر ان کے آئینی اختیارات کے تحت تھا اور اسے بغاوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔






