عالمی خبریں

ٹرمپ ۔ پوٹن ملاقات: کوئی معاہدہ نہیں، کوئی سوال نہیں، صرف رسمی تقاریب

خلیج اردو
واشنگٹن: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی طویل انتظار کے بعد ہونے والی ملاقات پُرتپاک استقبال اور فوجی جیٹ طیاروں کی فلائی پاسٹ سے شروع ہوئی لیکن تقریباً ڈھائی گھنٹے کی بات چیت کے باوجود کسی معاہدے پر ختم نہ ہو سکی۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ پیش رفت ہوئی ہے مگر بنیادی اختلافات برقرار ہیں۔

اینکریج، الاسکا میں جوائنٹ بیس پر ہونے والی ملاقات کے بعد دونوں رہنما میڈیا کے سامنے تو آئے مگر کوئی سوال نہیں لیا گیا۔ ٹرمپ نے کہا: *“ہم نے کئی نکات پر اتفاق کیا ہے لیکن ابھی چند معاملات باقی ہیں۔ ہم وہاں نہیں پہنچے مگر امکانات روشن ہیں۔”*

پوٹن نے دوستانہ ماحول پر خوشی کا اظہار کیا اور ہنستے ہوئے کہا کہ اگلی ملاقات ماسکو میں بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ اور سوویت یونین کے اشتراک کی یاد دلائی اور کہا کہ دونوں ممالک مشترکہ اقدار کے حامل ہیں۔

ٹرمپ کا مقصد روس کو یوکرین میں جنگ بندی پر آمادہ کرنا تھا، لیکن وہ کوئی وعدہ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے عندیہ دیا کہ وہ جلد یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی اور نیٹو رہنماؤں سے اگلے اقدامات پر بات کریں گے۔

امریکی صدر نے ایک انٹرویو میں پھر سے کہا کہ “پیش رفت” ہوئی ہے لیکن کوئی تفصیل دینے سے گریز کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وقت پوٹن کے حق میں جا رہا ہے کیونکہ روسی افواج مشرقی یوکرین میں آہستہ آہستہ اپنی پوزیشن مضبوط کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button