
خلیج اردو
6 اکتوبر 2021
دبئی : ویسٹ اینڈیز کے سابقہ پیسر مائیکل ہولڈنگ نے انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے کرکٹ بورڈ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کیلئے کرکٹ دوروں کی منسوخی مغربی تکبر کے سوا کچھ نہیں۔
پیٹر سمتھ ایوراڈ حاصل کرتے ہوئے مائیکل نے کہا کہ جو مجھے لگتا ہے وہ یہ ہے کہ ان دوروں کی منسوخی کے پیچھے رویتی مغرب کا تکبر ہے۔
انہوں نے کہا کہ مغرب سمجھتا ہے کہ وہ کسی سے رویہ ایسا رکھے گا جیسے وہ چاہے گا ، انہیں فرق نہیں پڑتا کہ کوئی اور کیا سوچتا ہے وہ صرف وہی کرتے ہیں جو انہیں پسند ہو۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں پاکستان میں چار دن گزارنے تھے اور مجھے یقین ہے کہ وہ ایسا بھارت کے ساتھ کبھی نہ کرتے۔
مائیکل نے بتایا کہ چونکہ بھارت امیر اور طاقت ور ہے تو وہ بھارت کے ساتھ ایسا کبھی پیش نہ آتے، انہوں نے کرکٹ کمنٹریٹرز کی جانب سے مذکورہ دوروں کی منسوخی پر لکھے ہوئے تنقید تحریروں کی حمایت بھی کی۔
ہولڈنگ نے کرونا کے وقت پاکستان کی جانب سے برطانیہ کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں چار دنوں کیلئے پاکستان جانا تھا جبکہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم انگلیڈ کیلئے چھ سے سات ہفتوں کیلئے گئی تھی۔ وہ کرونا کی صورت حال میں وہاں رہے اور انہوں نے وہاں کرکٹ کھیلی۔
مائیکل ہولڈنگ کا کہنا ہے کہ جس ببل میں پاکستان کے کھلاڑی تھے اسی میں وہ خود بھی موجود تھا اور انہیں وہاں رہنا پڑا اور باہر نہیں نکلے۔ یہ ایسے وقت میں تھا جب ویکسین بھی نہیں تھی اور یہ خطرناک تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان انگلیڈ میں موجود رہا اور کرکٹ کھیلی جو برطانیہ پر دنیا کے اعتماد کیلئے ضروری تھا کیونکہ برطانیہ بری طرح متائثر ہوا تھا۔
Source : Khaleej Times







