
خلیج اردو
ابوظبی: متحدہ عرب امارات نے انسانی خدمت اور پائیدار صحت کے میدان میں اپنی قیادت کے باعث اعضاء کے عطیہ دہندگان کی شرحِ اضافہ میں دنیا بھر میں پہلا مقام حاصل کر لیا ہے۔ یہ بات نیشنل کمیٹی برائے اعضاء کی پیوندکاری کے چیئرمین ڈاکٹر علی العبیدلی نے یو اے ای گورنمنٹ کے سالانہ اجلاس 2025 میں ’’حیات‘‘ اعضاء عطیہ پروگرام کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہی۔
ڈاکٹر العبیدلی نے بتایا کہ ’’حیات‘‘ پروگرام نے ملک کے نظامِ صحت کو مضبوط بنانے اور بیرون ملک طبی انحصار کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پروگرام کے آغاز سے اب تک 2034 اعضاء کی پیوندکاریاں مکمل کی جا چکی ہیں، جن میں سے 2024 کے دوران 354 آپریشن کیے گئے، جبکہ 397 افراد بطور عطیہ دہندہ رجسٹرڈ ہوئے۔
ان کے مطابق دس ہزار سے زائد طبی اور انتظامی ماہرین کو اندرون و بیرونِ ملک تربیت دی گئی ہے، جس سے یو اے ای نے اعضاء کی پیوندکاری کے میدان میں بین الاقوامی تعاون اور اعتماد کا منفرد ماڈل پیش کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی ادارۂ صحت (WHO) کی 2024 کی سفارشات کے مطابق یو اے ای نے اعضاء اور بافتوں کی پیوندکاری میں بین الاقوامی اشتراک کو فروغ دیا ہے، جبکہ آئندہ سال جاری ہونے والے 2025 کے رہنما اصول اس شعبے میں مزید تعاون اور جدت کے نئے راستے کھولیں گے۔
ڈاکٹر العبیدلی کے مطابق یو اے ای کی متنوع آبادی، جو 200 سے زائد قومیتوں پر مشتمل ہے، عالمی سطح پر اعضاء کے عطیہ اور پیوندکاری میں مضبوط شراکت داری کے لیے ایک بہترین بنیاد فراہم کرتی ہے۔
’’حیات‘‘ پروگرام وفاقی فرمان (قانون نمبر 25 برائے 2023) کے تحت چلایا جاتا ہے جو انسانی اعضاء و بافتوں کے عطیہ اور پیوندکاری کے عمل کو منظم کرتا ہے، اسمگلنگ پر پابندی عائد کرتا ہے اور عطیہ دہندگان و وصول کنندگان دونوں کے حقوق کا تحفظ یقینی بناتا ہے۔
ڈاکٹر العبیدلی نے کہا کہ یو اے ای میں اعضاء کا عطیہ دینا ایک عظیم انسانی عمل ہے جو دل، جگر، پھیپھڑوں اور گردوں کی ناکامی جیسے امراض میں مبتلا مریضوں کو نئی زندگی عطا کرتا ہے، اور ملک کے جذبۂ سخاوت و سماجی یکجہتی کی عکاسی کرتا ہے۔







