
خلیج اردو
واشنگٹن: امریکی محکمہ دفاع کے مطابق امریکی افواج نے رواں ہفتے کی ابتداء میں منشیات اسمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث ایک کشتی پر 20ویں فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں کشتی پر سوار چار افراد ہلاک ہوگئے۔ کارروائی کی تصدیق جمعرات کو پینٹاگون کے ترجمان نے کی۔
کارویائی بحیرہ کیریبین میں پیر کے روز کی گئی، جہاں امریکی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کو “نارکو ٹیررسٹ” قرار دیا گیا۔
امریکی سیکریٹری آف وار پیٹ ہیگ سیٹھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر "آپریشن سدرن اسپیئر” کے آغاز کا اعلان کیا جس کی قیادت مشترکہ ٹاسک فورس سدرن اسپیئر اور سدرن کمانڈ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مشن امریکی سرحدوں کے تحفظ، خطے سے جرائم پیشہ گروہوں کے خاتمے اور منشیات کی ترسیل روکنے کے لیے جاری ہے۔
اس سے قبل پیر کے روز ہی ہونے والی دو الگ کارروائیوں میں مزید چھ افراد مارے گئے جنہیں امریکی حکام نے "مرد نارکو ٹیررسٹ” قرار دیا تھا۔ ان کارروائیوں میں کسی امریکی اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
امریکہ کی اس مہم کے دوران اب تک تقریباً 80 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کارروائیوں میں لڑاکا طیارے، ڈرون اور گن شپ استعمال کیے جا رہے ہیں، جنہیں امریکہ منشیات کی غیر قانونی ترسیل روکنے کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔
عالمی اداروں نے البتہ ان کارروائیوں پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے خبردار کیا ہے کہ شفافیت کے فقدان کے باعث بعض حملوں میں ماورائے عدالت قتل کیے جانے کے قوی شواہد موجود ہیں، کیونکہ یہ واضح نہیں کہ ہلاک ہونے والے افراد شہری تھے یا جنگجو۔
اس مہم نے سفارتی تناؤ بھی پیدا کر دیا ہے۔ برطانیہ نے بین الاقوامی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزی کے خدشے کے پیش نظر کیریبین میں منشیات بردار کشتیوں سے متعلق امریکی کارروائیوں پر انٹیلیجنس شیئرنگ عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ اسی طرح کولمبیا کے صدر نے بھی امریکی حملوں کے رکنے تک انٹیلیجنس تعاون روکنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔






