
خلیج اردو
غزہ، 3 جولائی 2025
غزہ میں امریکی امدادی کیمپ کے باہر کھانے کی تلاش میں کھڑے مظلوم فلسطینیوں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی گئی۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب امریکی کمپنی کے تحت کام کرنے والے سابق فوجی اہلکاروں نے کھانے پر بلایا، اور جیسے ہی فلسطینی جمع ہوئے، فائرنگ کر دی گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق نہتے فلسطینیوں پر گولیاں برسانے کے بعد اہلکاروں نے ایک دوسرے کو خوشی سے گلے لگایا اور شاباش دی۔ متاثرہ کمپنی ایک امریکی دفاعی کنٹریکٹر ہے جس میں سابق فوجی اہلکار خدمات انجام دے رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ آج ہونے والی بمباری میں انڈونیشیا کے ہسپتال کے ڈائریکٹر مروان، ان کی اہلیہ اور بچے بھی شہید ہو گئے۔ فلسطینی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 116 فلسطینی شہید جبکہ درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔
صیہونی فورسز کی جانب سے نہ صرف رہائشی علاقوں بلکہ ہسپتالوں، اسکولوں اور خوراک کی تقسیم کے مراکز کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ الشفا ہسپتال کے حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایندھن ختم ہونے کے باعث سیکڑوں مریضوں کی جان خطرے میں ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی حملوں کے حالیہ 5 ہفتوں کے دوران 600 سے زائد ایسے افراد کو شہید کیا گیا جو صرف امداد کے منتظر تھے۔
ادھر حماس نے تصدیق کی ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی جانے والی جنگ بندی کی نئی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم اس پر کسی پیش رفت کے آثار تاحال واضح نہیں۔






