
خلیج اردو
برسلز: یورپی پارلیمنٹ میں ایک دل دہلا دینے والا منظر اس وقت دیکھنے میں آیا جب 11 سالہ یوکرینی بچے نے روسی میزائل حملے میں اپنی والدہ کی ہلاکت کا احوال بیان کیا اور اس کی باتوں کا ترجمہ کرنے والی مترجم جذبات پر قابو نہ رکھ سکی اور آبدیدہ ہو گئی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب رومان اولیکسِو نے وسطی یوکرین میں 2022 کے ایک روسی حملے میں اپنی ماں کے ساتھ گزارے آخری لمحات کا ذکر کیا۔
رومان اولیکسِو نے سامعین سے تعارف کراتے ہوئے کہا کہ وہ یوکرین سے تعلق رکھتا ہے اور اس وقت لویو میں رہائش پذیر ہے۔ اس کے بعد مترجم نے ترجمہ شروع کیا، تاہم جیسے ہی بچے نے حملے کی تفصیل بیان کرنا شروع کی، مترجم کی آواز لرزنے لگی اور وہ کہتے ہوئے رک گئیں کہ وہ خود بھی جذباتی ہو گئی ہیں۔
اے ایف پی کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مترجم آنسو ضبط کرنے کی کوشش کرتی رہیں، جبکہ بچے کے چہرے اور سر پر نمایاں زخم اور جلنے کے نشانات موجود تھے، اور سر کے ایک حصے پر بال بھی نہیں تھے جو ممکنہ طور پر فضائی حملے کا نتیجہ ہیں۔ رومان نے بتایا کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ وِنیتسیا کے ایک اسپتال میں تھا جب بمباری ہوئی، اور وہ لمحہ اس کی زندگی کا آخری موقع تھا جب اس نے اپنی ماں کو دیکھا اور الوداع کہا۔
گواہی کے دوران کمرے میں موجود ایک اور خاتون بھی خاموشی سے روتی دکھائی دیں۔ مترجم نے خود کو سنبھالنے کی کوشش کی، تاہم ان کی مشکل کو دیکھتے ہوئے ایک ساتھی نے مداخلت کی اور انگریزی میں ترجمہ مکمل کیا۔ مترجم نے ٹشو سے آنسو پونچھے اور کچھ لمحوں کے لیے خاموش رہیں۔ بچے کی سانسیں بھی بھاری ہو گئی تھیں، اس موقع پر مترجم نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے حوصلہ دیا تاکہ وہ اپنی بات جاری رکھ سکے۔
رومان اولیکسِو یوکرین میں جاری جنگ کی تباہ کاریوں کی ایک علامت بن چکا ہے، جو فروری 2022 میں روسی حملے کے بعد شروع ہوئی۔ حملے کے بعد وہ “الائنس ان بروکن کڈز” کے تحت پوپ فرانسس سے تین مرتبہ ملاقات بھی کر چکا ہے۔ رومان، جو بال روم ڈانس کا شوقین ہے، کو بمباری کے بعد متعدد سرجریوں سے گزرنا پڑا۔ بعد ازاں اس پر بننے والی مختصر فلم رومچک، جو لندن کی گولڈ اسمتھز یونیورسٹی کے طلبہ نے بنائی، ایوارڈ یافتہ قرار پائی اور ویٹیکن میں بچوں کے حقوق سے متعلق عالمی سمٹ میں پوپ کو بھی دکھائی گئی۔






