عالمی خبریں

ہدا کتّان کا ردعمل: بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا، سیفورا سے مصنوعات ہٹانے کا مطالبہ

خلیج اردو
دبئی: ہدا بیوٹی کی بانی ہدا کتّان نے اسرائیل کی جانب سے غزہ کے عوام کے خلاف کارروائیوں پر تنقیدی ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر پیدا ہونے والے تنازع اور امریکی تنظیموں کی جانب سے سیفورا اسٹورز سے ان کی مصنوعات ہٹانے کے مطالبات پر ردعمل دیا ہے۔

سی این این کے مطابق اپنی ٹک ٹاک ویڈیو میں ہدا نے کہا تھا کہ کئی سازشی نظریات اور ان کے پیچھے موجود شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیل پہلی اور دوسری عالمی جنگ، 11 ستمبر اور 7 اکتوبر جیسے واقعات کے پیچھے تھا یا انہیں ہونے دیا گیا۔ بعد ازاں اس ویڈیو کو خود ہدا نے ہٹا دیا اور واضح کیا کہ نہ تو یہ فیصلہ ان کی ٹیم کا تھا اور نہ ہی ٹک ٹاک نے ویڈیو ہٹائی۔

شدید تنقید کے بعد ہدا نے دوبارہ ٹک ٹاک پر آ کر وضاحت دی کہ ان کی فلسطین کی حمایت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ یہودیوں کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "آپ کی آواز بند کرنے کے لیے ہمیشہ کی طرح الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے اور آپ کو یہودی مخالف قرار دیا جاتا ہے۔”

ہدا نے غزہ میں بھوک سے مرتے بچوں، بمباری سے متاثرہ شہریوں اور ناقابل برداشت حالات میں زندگی گزارنے والوں کے دکھ کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کے الفاظ کو غلط سیاق و سباق میں پیش کر کے نفرت انگیزی کا الزام لگایا گیا۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ وہ ہولوکاسٹ کی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتیں اور بتایا کہ اسکول میں ہولوکاسٹ کے بارے میں پڑھ کر انہوں نے عہد کیا تھا کہ جہاں بھی انسانیت خطرے میں ہوگی، وہ آواز بلند کریں گی۔

اینٹی ڈیفیمیشن لیگ سمیت بعض اداروں نے ان پر یہودی مخالف سازشی نظریات کو فروغ دینے کا الزام لگایا جس پر ہدا نے کہا کہ اسرائیلی حکومت پر تنقید کو یہودیوں کے خلاف نفرت کے مترادف قرار دینا بھی دراصل ایک قسم کی یہودی مخالفت ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button