
خلیج اردو
نئی دہلی – 8 مئی 2025: سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) نے انکشاف کیا ہے کہ اسے بھارتی حکومت کی جانب سے ایکزیکٹو احکامات موصول ہوئے ہیں جن کے تحت کمپنی کو بھارت میں 8,000 سے زائد اکاؤنٹس بلاک کرنے کی ہدایت دی گئی ہے، بصورتِ دیگر کمپنی کے مقامی ملازمین کو قید اور بھاری جرمانوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔
ان احکامات میں بین الاقوامی نیوز اداروں اور نمایاں صارفین کے اکاؤنٹس بھی شامل ہیں جنہیں بھارت میں محدود کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ X کے مطابق، بیشتر کیسز میں حکومت نے یہ وضاحت نہیں کی کہ کن مخصوص پوسٹس نے بھارتی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے، جبکہ کئی اکاؤنٹس کی بندش کا کوئی جواز یا ثبوت بھی فراہم نہیں کیا گیا۔
X نے اعلان کیا ہے کہ وہ صرف بھارت میں ان اکاؤنٹس کو عارضی طور پر بلاک کرے گا، تاہم کمپنی نے ان احکامات کو سنسرشپ قرار دیتے ہوئے ان سے اصولی اختلاف ظاہر کیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ پورے اکاؤنٹس بلاک کرنا غیر ضروری ہے اور یہ آزادی اظہار رائے کے بنیادی حق کے منافی ہے۔
X نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ آسان نہیں تھا، تاہم بھارت میں پلیٹ فارم کی دستیابی کو یقینی بنانا ضروری ہے تاکہ صارفین معلومات تک رسائی حاصل کر سکیں۔ کمپنی نے شفافیت کو یقینی بنانے کیلئے احکامات کو عوامی کرنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن قانونی رکاوٹوں کے سبب فی الحال ایسا ممکن نہیں۔
کمپنی نے تمام ممکنہ قانونی راستے اپنانے کا عندیہ دیا ہے، تاہم بھارتی قوانین کے تحت X خود براہِ راست عدالت سے رجوع نہیں کر سکتا۔ اس لیے متاثرہ صارفین سے کہا گیا ہے کہ وہ قانونی چارہ جوئی کے لیے درج ذیل قانونی معاون اداروں سے رابطہ کریں:
-
iProbono India: http://i-probono.in
-
National Legal Services Authority: http://nalsa.gov.in
-
Karnataka Legal Services Authority: http://kslsa.kar.nic.in
-
Supreme Court Legal Services: http://sci.gov.in/legal-aid
مزید برآں، متاثرہ صارفین بھارتی حکومت سے رابطے کے لیے اس ای میل ایڈریس پر بھی اپنی شکایات جمع کرا سکتے ہیں: cyberlaw@meity.gov.in







