
خلیج اردو
انڈیپنڈیمنٹ اردو کی خبر کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سنٹورس ٹاورز میں منگل کو ایک خاتون کے خلاف مبینہ طور پر ’نوکری کے جھانسے‘ کے بعد ریپ کا واقعہ پیش آیا، جس پر متاثرہ خاتون نے تھانہ مارگلہ میں ایف آئی آر درج کروا دی۔ اسلام آباد پولیس نے تصدیق کی ہے کہ متاثرہ خاتون اور ملزمان کا میڈیکل معائنہ کر لیا گیا ہے جبکہ ملزمان کو گرفتار کر کے ریمانڈ پر لے لیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی اسلام آباد جواد طارق کے مطابق خاتون نے بتایا کہ ملزمان نے ان کا موبائل فون واپس دینے کے بہانے انہیں سنٹورس بلایا اور وہاں ان کے ساتھ ریپ کیا، اور مزاحمت پر تشدد بھی کیا۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق متاثرہ خاتون نے 13 اکتوبر کو ایک آن لائن اشتہار کے ذریعے ’علیزے کال سینٹر‘ میں ملازمت کے سلسلہ میں رابطہ کیا تھا، جہاں اسامہ عرف علی سے ملاقات ہوئی۔ بعد ازاں فیصل جلال اور سید حفیظ اللہ نے خاتون کو سینٹورس مال کے چھٹے فلور پر لے جا کر یہ جرم انجام دیا۔
متاثرہ خاتون نے موقع پر چھپ کر پولیس ہیلپ لائن 15 پر کال کی جس کے بعد پولیس نے ملزمان کو گرفتار کیا۔ سنٹورس انتظامیہ کے مطابق دونوں ملزمان ٹاور کے ملازمین نہیں ہیں، جبکہ انتظامیہ واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔
یہ واقعہ اسلام آباد میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور ریپ کے واقعات کی ایک اور تشویشناک مثال ہے۔






