
خلیج اردو
اسلام آباد: وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ طالبان کے زہریلے بیانات ان کی منتشر اور خلفشار زدہ سوچ کو ظاہر کرتے ہیں اور یہ رویہ خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
وزیرِ دفاع نے بتایا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے قیام کے لیے متعدد مواقع فراہم کیے مگر طالبان نے منفی اور جارحانہ رویہ اختیار کیا، جس نے مذاکرات کو ناکام بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کی ناکامی دراصل طالبان حکومت کے اندرونی اختلافات اور متضاد مفادات کا نتیجہ ہے۔
خواجہ آصف نے واضح کیا کہ پاکستان پرامن حل اور سفارت کاری کا خواہاں رہا ہے، تاہم اگر طالبان نے تشدد اور دہشت گردانہ کارروائیوں کا راستہ اختیار کیا تو پاکستان اپنی رواداری ختم کر چکا ہے اور جوابی کارروائی از خود کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی دہشت گرد حملے کا سخت اور بروقت جواب دیا جائے گا۔
وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ طالبان کا مقصد امن نہیں بلکہ اپنی جنگی معیشت کو زندہ رکھنا اور علاقائی انتشار کو فروغ دینا ہے۔ ان کے بقول طالبان حکومت افغانستان کو دوبارہ جنگ میں جھونک رہی ہے جبکہ افغانستان کو اب طاقتوں کا قبرستان بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی بلکہ اسے اپنی عوام کا وطن رہنے دیا جائے گا۔
خواجہ آصف نے تاکید کی کہ طالبان کو تَورہ بورہ جیسے انجام سے سبق لینا چاہیے اور یہ کہ پورا ہتھیار استعمال کیے بغیر بھی طالبان کے خاتمے کے اقدامات ممکن اور ضروری ہیں۔ انہوں نے طالبان کی دھمکیوں کو محض تماشہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا ان کی حقیقت دیکھے گی۔
وزیرِ دفاع نے خطے میں پائیدار امن کے لیے باہمی دلچسپی اور ذمہ دارانہ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پاکستان ہر وہ قدم اٹھائے گا جو ملکی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے ضروری ہو۔






