پاکستانی خبریں

وفاقی کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی

خلیج اردو
اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی، جس کی صدارت وزیراعظم شہباز شریف نے ویڈیو لنک کے ذریعے کی۔ اجلاس میں ترمیم سے متعلق پیپلز پارٹی کی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے شرکاء کو بریفنگ دی۔ اجلاس میں وفاقی وزرا اور وزرائے مملکت بھی شریک تھے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق، سینٹ میں ترمیم پیش ہونے کے بعد اسے پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا۔ اس کمیٹی میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے ارکان شامل ہوں گے، جبکہ فاروق ایچ نائیک کمیٹی کے چیئرمین اور محمود بشیر ورک کو چیئر ہوں گے۔ دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو بھی شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ وزیراعظم نے اتحادی جماعتوں سے الگ الگ مشاورت کی، اور چارٹر آف ڈیموکریسی کے تحت آئینی عدالت کے قیام کے فیصلے پر عملدرآمد کا وقت آ چکا ہے۔ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز بھی 27ویں آئینی ترمیمی بل میں شامل ہے۔

ججز کی ٹرانسفر کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے ترامیم تجویز کی گئی ہیں، جس کے تحت ججز کی منتقلی کا اختیار جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو دیا جائے گا اور متعلقہ ہائی کورٹس کے چیف جسٹسز بھی اس عمل کا حصہ ہوں گے۔ سینیٹ انتخابات میں پیدا ہونے والے ابہامات کو دور کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کی گئی ہے تاکہ ملک بھر میں سینیٹ انتخابات ایک ہی وقت پر ہوں۔

وزیر قانون کے مطابق، آرٹیکل 243 میں دفاعی امور سے متعلق ترامیم بھی شامل ہیں، جس میں حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے پیش نظر عسکری قیادت کے اعزازی عہدے اور سرکاری سیریمونئیل ٹائٹلز کا آئین میں ذکر شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے آرٹیکل 140-A میں ترمیم کی تجویز پہلے ہی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بھیجی جا چکی ہے، اور وزیراعظم کی ہدایت پر حکومت ایم کیو ایم کے بل کی حمایت کرے گی۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button