
خلیج اردو:
بالی ووڈ کے عظیم اسٹار دھرمیندرا 89 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال کی تصدیق فلم ساز کرن جوہر نے ایک جذباتی پیغام کے ذریعے کی۔ انہوں نے لکھا کہ یہ ایک دور کا اختتام ہے، دھرمیندرا ایک ایسے میگا اسٹار تھے جن کی مسکراہٹ، شخصیت اور اسکرین پر موجودگی بے مثال تھی۔ کرن جوہر کے مطابق دھرمیندرا کی محبت، دعائیں اور شفقت کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں، وہ ہمیشہ ایک ہی رہیں گے اور ان کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔
دھرمیندرا کی وفات کی خبر نے پورے بھارت کو غمزدہ کر دیا۔ ابتدا میں پیدا ہونے والی غلط فہمیوں، قبل از وقت رپورٹس اور خاندانی تصدیق سے پہلے گردش کرتی افواہوں کے باوجود ان کے چاہنے والوں کا صدمہ صاف دکھائی دیا۔
دھرمیندرا صرف ایک فلمی ہیرو نہیں تھے بلکہ ایک احساس تھے۔ نرم دل، پراثر آنکھوں اور دل موہ لینے والی مسکراہٹ کے حامل اس فنکار نے ایک طرف ایکشن سے بھرپور کردار کیے تو دوسری جانب محبت سے بھرے کرداروں میں ایسا اثر چھوڑا کہ دیکھنے والے انہیں کبھی نہ بھول سکے۔
ان کی فلم شعلے نے ہنسایا، انوپما نے رلایا، اور چپکے چپکے نے دوبارہ محبت کرنا یاد دلایا۔ وہ ایکشن ہیرو بھی تھے اور وہ شاعر دل بھی جو ستاروں تلے محبت کا اظہار کرتا تھا۔
دھرمیندرا کی سب سے بڑی خوبی ان کی وقار بھری شخصیت تھی۔ وقت بدلتا گیا، فلموں کے انداز بدلتے گئے، مگر وہ اپنی انفرادیت، نرمی اور شرافت کے ساتھ ہمیشہ قابلِ احترام رہے۔ ان کی آخری بڑی اسکرین جھلک 2023 کی فلم راکی اور رانی کی پریم کہانی میں دکھائی دی، جہاں انہوں نے "ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر” گا کر ایک بار پھر دل جیت لیے۔
آج جب دنیا بھر سے تعزیتی پیغامات آ رہے ہیں، ایک بات واضح ہے کہ دھرمیندرا صرف ہندوستان کے "ہی مین” نہیں تھے، وہ اس کی دھڑکن تھے — وہ شخص جس نے ثابت کیا کہ طاقت نرمی کے ساتھ بھی ہوتی ہے اور محبت ہمیشہ لازوال رہتی ہے۔







