سٹوری

کیسے سمندر کی تہہ سے موتی نکالنے والا انسان ارب پتی شحض بنا

حاجی سعید لوتھا دنیا میں پہلے اسلامی اصولوں پر قائم شدہ بینک کے مالک تھے

اسلامی دنیا کی ایک عہد ساز شخصیت کا سفر زندگی تمام ہوا۔

حاجی سعید لوتھا اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔حاجی سعید لوتھا اسلامی اصولوں پر مبنی پہلے بینک "دبئی اسلامی بینک” کے مالک تھے۔حاجی سعید لوتھا 1923 میں پیدا ہوئے ۔آپ نے اسلامی شرعی اصولوں پر مبنی پہلا بینک بنام دبئ اسلامی بینک 1975 میں قائم کیا۔

اس کے علاوہ انہوں نے اور بھی بہت سے کمپنیاں قائم کیں جن میں دبئی Consumer Cooperative بھی شامل ہے۔انہوں نے 1983 میں "اسلامک ایجوکیشن سکول” کی بنیاد رکھی اس کے علاوہ 1986 میں لڑکیوں کے لیے "دبئی میڈیکل کالج فار گرلز ” قائم کیا۔1992 میں آپ نے امارات میں اپنی نوعیت کا پہلا "دبئ فارماسیوٹیکل کالج” قائم کیا۔اس کے بعد انہوں نے ماحولیات پر تحقیق کے لیے "دبئ سینٹر فار انوائرمنٹل ریسرچ، دبئ سپیشل میڈیکل سینٹر اور میڈیکل ریسرچ لیب کا قیام بھی عمل میں لایا”۔

اس کے علاوہ یتیم بچوں کے لیے ایک یتیم حانہ بھی قائم کیا۔حاجی سعید لوتھا نے اپنے بھائ کے ساتھ مل کر سن پچاس کی دہائ میں لوتھا کنٹریکٹر نامی کمپنی کی بنیاد بھی رکھی جو جلد ہی امارات میں ایک بہت بڑی کمپنی بن کر ابھری۔

حاجی سعید لوتھا نے اپنا سفر سات سال کی عمر میں سمندر کی تہہ سے موتی نکالنے سے کیا اور اپنی محنت سے اسلامی دنیا میں ایک عظیم شخصیت بن کر ابھرے جو نا صرف کامیاب کاروباری بلکہ ایک خدا ترس انسان بھی تھے۔

حاجی سعید لوتھا نے ایک دفعہ اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ "سن ستر کی دہائ میں اس وقت کے دبئی کے بادشاہ شیخ راشد بن سعید المکتوم سے جب ان کی ملاقات ہوئ تو انہیں شیخ نے کہا کہ میں کبھی بھی بینک میں موجود اپنی رقم پر سود نہیں لیتا” شیخ سعید نے فوراً یہ فیصلہ کیا کہ وہ اسلامی اصولوں پر مبنی ایک بینک کا قیام عمل میں لائیں گے۔انہوں نے یہ آئیڈیا شیخ راشد بن سعید کی خدمت میں پیش کیا جو انہیں پسند آیا۔شیخ راشد بن سعید نے انہیں اس پر مزید کام کرنے کو کہا اور 1975 میں یہ آئیڈیا "دبئ اسلامی بینک”کی شکل میں سامنے آیا۔ایک ایسا بینک جو مکمل اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہوگا۔

وقت نے یہ ثابت کیا کہ دبئی اسلامی بینک واقعی ایک عظیم خیال تھا اور آج یہ بینک متحدہ عرب امارات کے علاوہ دنیا کے دوسرے اسلامی ممالک بشمول پاکستان میں بھی کام کررہا ہے۔خال ہی میں دبئی اسلامی بینک نے متحدہ عرب امارات کے ایک اور اسلامی بینک "نور بینک” کو بھی خرید لیا ہے۔

سعید لوتھا کے آباؤ اجداد تقریباً دو سو سال تک دبئی مقیم رہے لیکن پھر عجمان منتقل ہوگئے جس کی وجہ عجمان میں سمندر سے موتی نکالنے کا کام نسبتاً اچھا اور آسان تھا۔1940 کی دہائ میں سعید لوتھا کے والدین واپس دبئی منتقل ہوئے اور اپنا کام دوبارہ شروع کیا۔سعید لوتھا بچپن میں ہی ہندوستان و عراق تک کشتی میں تجارت کے لیے سفر کرتے۔دبئئ واپس منتقل ہونے پر سعید لوتھا نے اپنے والد کو تعمیراتی کام کی صنعت میں قسمت آزمائی کرنے کو کہا۔سعید لوتھا کے اس وقت کے دبئئ کے حکمران شیخ راشد بن سعید المکتوم کے ساتھ مثالی تعلقات تھے۔

سعید لوتھا طویل عمری کے باوجود ڈیرا دبئئ میں صلاح الدین روڈ پر موجود عمارت کی دوسری منزل پر قائم کمپنی دفتر میں موجود پائے جاتے جہاں ان سے کوئ بھی شخص مل سکتا تھا۔ان کے پاس لوگوں کی اکثریت مشاورت کے لیے آتی جن میں نظامِ زندگی کے تمام شعبے شامل تھے۔آپ ان کے ساتھ ہر قسم کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کرسکتے تھے چاہے وہ معاشرتی ،علاقائ سیاست،مذہبی رواداری،تعلیمی ،طبعی الغرض ہر قسم کے موضوع پر ان کی معلومات بہت زیادہ تھیں۔

سعید لوتھا کی قائم شدہ کنسٹرکشن کمپنی دبئئ کی اولین مقامی کنسٹرکشن کمپنیوں میں سے ایک ہے۔جو ابھی تک قائم ہے۔ سعید لوتھا کی زندگی بلاشبہ محنت و عظمت اور ایمانداری سے بھرپور تھی۔اللہ کریم کی زات ان کی
مغفرت فرمائے۔آمین

تحریر بشکریہ:راجہ علی شان

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button