پاکستانی خبریں

قومی شناختی نظام میں بڑی پیش رفت، چہرے اور آنکھوں کے اسکین کو باضابطہ بایومیٹرک شناخت تسلیم کر لیا گیا

خلیج اردو
دبئی: پاکستان کی وفاقی حکومت نے نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ قواعد میں ترمیم کرتے ہوئے چہرے اور آنکھوں کے اسکین کو باضابطہ بایومیٹرک شناخت کے طور پر تسلیم کر لیا ہے، جس کے بعد بایومیٹرک تصدیق کا دائرہ کار انگلیوں کے نشانات سے آگے بڑھا دیا گیا ہے۔ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے مطابق یہ ترمیم نادرا کی سفارش پر متعارف کرائی گئی ہے، جس سے ملٹی بایومیٹرک ویریفکیشن سسٹم کو واضح قانونی بنیاد فراہم ہو گئی ہے اور کانٹیکٹ لیس اور فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجیز کے وسیع استعمال کی راہ ہموار ہوئی ہے۔

نظرثانی شدہ قواعد کے تحت نادرا نے تکنیکی جدت متعارف کراتے ہوئے کانٹیکٹ لیس فنگر پرنٹس اور فیشل ریکگنیشن کے ذریعے بایومیٹرک تصدیق کی سہولت فراہم کر دی ہے۔ یہ نظام نادرا رجسٹریشن مراکز اور پاک آئی ڈی موبائل ایپ کے ذریعے نادرا کے دائرہ اختیار میں آنے والی خدمات کے لیے فعال ہو چکا ہے، جبکہ اسلام آباد میں رجسٹرڈ گاڑیوں کی منتقلی اور آن لائن پاسپورٹ درخواستوں میں بھی اس کے ذریعے بایومیٹرک تصدیق کی جا رہی ہے۔

نادرا کے مطابق آئندہ مہینوں میں اس نظام کو مزید وسعت دی جائے گی، جس کے تحت وفاقی حکومت کے پنشنرز کے لیے پروف آف لائف سرٹیفکیٹس بھی نئے فریم ورک کے تحت جاری کیے جائیں گے اور اضافی ڈیجیٹل خدمات مرحلہ وار متعارف کرائی جائیں گی۔ یکم جنوری 2026 سے نادرا ملک بھر کے تمام رجسٹریشن مراکز پر ان شہریوں کے لیے فیشل ریکگنیشن پر مبنی بایومیٹرک ویریفکیشن سرٹیفکیٹس جاری کرے گا جن کی انگلیوں کے نشانات کی تصدیق ممکن نہیں ہوتی۔ ایسے معاملات میں جہاں اداروں کو بایومیٹرک تصدیق درکار ہو، شہری 20 روپے فیس کے عوض کسی بھی نادرا مرکز سے یہ سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔

طریقہ کار کے مطابق اگر کسی سروس فراہم کنندہ کے ہاں فنگر پرنٹ ویریفکیشن ناکام ہو جائے تو شہری نادرا مرکز جا کر نئی تصویر بنوائے گا، جسے نادرا کے موجودہ ریکارڈ سے میچ کیا جائے گا۔ کامیاب تصدیق کے بعد نادرا ایک سرٹیفکیٹ جاری کرے گا جس میں تصدیق کا مقصد، شہری کی موجودہ اور ریکارڈ شدہ تصاویر، قومی شناختی کارڈ نمبر، نام، والد کا نام، منفرد ٹریکنگ آئی ڈی اور کیو آر کوڈ شامل ہوگا۔ یہ سرٹیفکیٹ سات دن کے لیے مؤثر ہوگا اور متعلقہ ادارے آن لائن اس کی تصدیق کر سکیں گے۔

مستقبل میں یہ سہولت نادرا کے ای سہولت مراکز کے ذریعے بھی دستیاب ہوگی اور ڈیجیٹل آئی ڈی کے باضابطہ اجرا کے بعد پاک آئی ڈی ایپ کے ذریعے براہ راست رسائی ممکن ہو جائے گی۔ نادرا نے واضح کیا ہے کہ وہ اس نظام کے نفاذ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے تاہم ریگولیٹرز، سرکاری اداروں اور نجی تنظیموں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ منظور شدہ معیارات کے مطابق اپنے ہارڈویئر اور سافٹ ویئر کو اپ گریڈ کریں۔

نادرا کے مطابق ابتدائی مرحلے میں اداروں کو اپنے سسٹمز میں نادرا کی جانب سے جاری کردہ فیشل ویریفکیشن سرٹیفکیٹس کو ضم کرنا ہوگا، جبکہ دوسرے مرحلے میں سروس پوائنٹس پر کیمرہ سے لیس کے وائی سی مشینیں نصب یا مربوط کی جائیں گی۔ اتھارٹی نے کہا ہے کہ 20 جنوری 2026 کے بعد سروس کی دستیابی سے متعلق شکایات متعلقہ اداروں کو کی جائیں، کیونکہ نادرا کی جانب سے سہولت دستیاب ہوگی۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ان شہریوں کے دیرینہ مسائل حل ہونے کی توقع ہے جن کے فنگر پرنٹس ماند پڑ چکے ہیں، خصوصاً بزرگ افراد اور طبی مسائل کا شکار شہری، جو اکثر بینکنگ، سم رجسٹریشن، جائیداد کی منتقلی اور دیگر بایومیٹرک تقاضوں والی خدمات میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ یہ اقدام وزیراعظم محمد شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی ہدایات کے تحت کیا گیا ہے، جس کا مقصد بایومیٹرک تصدیق میں ناکامی کے فوری اور مؤثر حل کو یقینی بنانا ہے، جبکہ نادرا نے شناختی فراڈ اور غلط استعمال کے خلاف حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا ہے۔

 

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button