پاکستانی خبریں

جو تیراہ میں ہوا وہ معمول کی کارروائی ہے، اسے غلط رنگ دیا جارہا ہے، وفاقی وزراء کی پریس کانفرنس میں میں تیراہ سے نقل مکانی کی وضاحت

خلیج اردو
اسلام آباد: وفاقی وزیر خواجہ آصف نے عطا تارڑ اور اختیار ولی خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وادی تیراہ میں نقل مکانی کوئی غیر معمولی بات نہیں بلکہ یہ ایک معمول کا عمل ہے، جسے بلاوجہ بحران کی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جرگے کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا اور نقل مکانی کرنے والوں کے لیے چار ارب روپے کے فنڈز بھی مختص کیے گئے ہیں۔

خواجہ آصف کے مطابق جرگے میں یہ طے پایا تھا کہ علاقے میں سکول اور تھانے قائم کیے جائیں گے، تاہم صوبائی حکومت کی مجموعی کارکردگی دیکھی جائے تو وہاں نہ مناسب ہسپتال ہیں، نہ سکول اور نہ ہی تھانے موجود ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنی ناکامیوں کا سارا ملبہ فوج پر ڈالنا چاہتی ہے، حالانکہ اس پورے معاملے میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سردیوں میں ہر سال لوگ ان علاقوں سے ہجرت کر کے دوسرے مقامات پر چلے جاتے ہیں اور گرمیوں میں دوبارہ واپس آ جاتے ہیں، اس میں کوئی انوکھی بات نہیں۔ ان کے مطابق صوبائی حکومت عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی اور اپنی نااہلی چھپانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وادی تیراہ میں کئی سالوں سے کوئی فوجی آپریشن نہیں ہوا، البتہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن معمول کے مطابق ہوتے رہتے ہیں، اور صوبائی حکومت یا مشیروں کے جرگوں سے فوج کا کوئی تعلق نہیں۔

اس موقع پر عطا تارڑ نے کہا کہ قبائلی علاقوں سے موسمی ہجرت ایک فطری عمل ہے، مگر اسے موجودہ سیاسی بیانیے کے تناظر میں توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے، جو حقائق کے منافی ہے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button