Uncategorized

سالگرہ مبارک پاکستان: خدا کرے تم اپنے خوابوں کی بہترین تعبیر پاؤ

یہ مضمون پاکستانی صحافی مہر تارڑ کا گلف نیوز کے لیے لکھے گئے مضمون کے کچھ حصوں کا اردو ترجعمہ

تحریر: مہر تارڑ

اے میرے ملک، میرے گھر، میرے وطن پاکستان تمہارے متعلق ہر چیز میرے لیے اہم ہے۔ تمہارے بارے میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جومیرے اندر بے حسی کا شبہ بھی پیدا کرے۔ تماری مثب چیزیں مجھے خوش کرتی ہیں۔  تمہاری منفی باتیں مجھے مایوس کرتی ہیں۔ تمہاری خوشی مجھے خوش کرتی ہے۔ تمہاری تکلیف مجھے رلا دیتی ہے۔ تمہاری کامیابیاں میرا فخر ہیں۔ تمہاری ناکامیاں میرے ملال کا سبب ہیں۔ تمہارے متعلق ہر بات میرے لیے ذاتی مسئلہ ہے۔

آج تم 73 سال کے ہوگئے ہو۔ ملک کے تاریخی تناظر میں آپ ابھی بھی جوان ہو۔ تمہارا سبز و سفید ہلالی پرچم ہر عمارت، ہر گھر، ہر ٹی وی سکرین، ٹوئیٹر کی ہر ٹائم لائن، بنا سائلنسر کی ہر موٹر سائیکل، ہر بڑی چھوٹی گاڑی، بچوں کے ہاتھوں میں، غرض ہر جگہ لہلہاتا ہے۔ حقیقت میں یہ پرچم ہر پاکستانی کے دل میں لہلہاتا ہے۔

تمہارے جھنڈے کے دونوں رنگ، نسل، رنگ، عقیدے اور نظریے کی تفریق کے بغیر ہر پاکستانی کی نمائندگی کرتےہیں۔

تمہاری تاریخ میں ہمیشہ سے جھنڈے کے اس سبز اور سفید رنگ کو استمعال کر کے مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے، اوراقلیتوں کے درمیان تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اس سب میں تمہارے ایک مسلمان ملک ،جو تمام لوگوں کے لیے ہے، ہونے کی بنیادی سچائی کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ایک ایسے مذہب کے نام پر بہت ساری زندگیاں ختم کردی گئی ہیں جو رواداری کا درس دیتا ہے، جو مخالف نظریے کو برداشت کرنے اور تمام لوگوں کے لیے ہمدردی کا درس دیتا ہے۔

بہت ساری زندگیاں مذہب کی بنیاد پر ظلم اور خوف سے ایک ایسے میں ملک میں دوچار ہیں جو اس کے بانی محمد علی جناح کے اس وعدے کے ساتھ حاصل کیا گیا تھا: ” آپ اپنے مندروں میں جانے کے لئے آزاد ہیں، آپ پاکستان یا ریاست پاکستان میں اپنی مساجد یا کسی اور جگہ جانے یا عبادت کرنے کے لئے آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب یا ذات یا مسلک سے ہوسکتا ہے، اس بات سے ریاست کو کوئی سروکار نہیں ہے”۔

اے میرے پاکستان، کیا تم اپنے ان لوگوں کے لیے روتے ہو جو تمہاری حدود میں اچھوتوں کی طرح رہنے پر مجبور ہیں؟ کیا تمہارے اندر ان مظلوموں کو انکی شہریت، حفاظت اور تمہاری دی گئی ہر چیز پر حق کا یقنین دلانے کے لیے گلے لگانے کی خواہیش ہے؟

لیکن پھر آپ اپنے اندر جھانکتے ہو، اور دیکھتے ہو کہ ایسا بہت کچھ جو مختلف ہونا چاہیے تھا لیکن اس کے باجود تم نے بغیر پوچھے (ہمیں) دیا ہے۔ تمہارے فیاضی کے جذبے کی کرنیں اتنی نمایاں ہیں کہ یہ بے مثال ہیں۔

تم نے لاکھوں افغان مہاجرین ایک ایسے وقت میں آغوش میں لیا جب وہ اپنے تباہ حال وطن کو چھوڑنے پر مجبور تھے، اورانہیں تحفظ اور گھر کا احساس دلایا۔

جہاں تمہاری نوازشوں ڈھیر ہیں، وہیں کمزور، بے کس، مظلوموں، غریبوں، بچوں اور عورتوں کا ایک خوفناک سایا پیچھا کرتا ہے۔ تم نے اپنے آئین میں سب کے لیے مساوات اور انصاف کا عدہ کیا ہے۔ لیکن سماجی اور اداروں کی سطح پر ظلم و ستم، تشدد، امتیازی سلوک کی ان گنت مثالیں بھی موجود ہیں۔

اے میرے پیارے پاکستان جب کوئی بچہ جبری زیادتی کا نشانہ بنتا ہے یا قتل کر دیاجاتا ہے، یا کوئی کسی عورت سے زنا کیا جاتا اور مار دیا جاتا، جب کسی گاؤں کے غریب شخص پر تشدد کیا جاتا اور اسے مار دیا جاتا ہے یا جب کسی خواجہ سرا کا ریپ کیا جاتا اور قتل سےپہلے ویڈیو بنائی جاتی  تو کیا تمہارا دل ٹوٹتا ہے؟ کیا تم اپنے لوگوں کے لیے ہر دن دعا کرتے ہو کہ وہ انسانیت نہ بھولیں، دوسرں سے رحم دلی رکھیں اور کسی کو تکلیف نہ دیں؟

میرے پیارے پاکستان، تمہارے بہت سارے باشندےاپنی انسانیت، دنیاوی معاملات، اپنی روحانی سعی میں حیرت انگیز ہیں۔ ان کے ارادوں کی رونق اس انداز میں دکھائی دیتی ہے کہ وہ لوگ ذاتی یا اجتماعی ضرورت کے لئے اپنی زندگی سے زیادہ بڑے انسان دوست کاموں میں مدد کے لئے متحد ہوجاتے ہیں۔ یہ تمام کام اپنے آپ میں برائی اور گمراہی کے راستے پر چلنے والوں کے لیے تبدیلی کا نشان ہیں۔

دنیا کے نقشے پر تمہاری موجودگی کے 70 سالوں کے درمیان تمہارے آئین کو کی بنیادوں کو بڑھانے کے لیے بہت کچھ کیا گیا ہے۔ اور بہت کچھ ان بنیادوں کھوکھلا کرنے کے لیے بھی کیا گیا ہے۔ تسلط کی جنگ نے آپ کی آئینی سالمیت کو نقصان پہنچایا ، پھر بھی تم پاکستان میں غیر منقسم جمہوریت کے عزم پر قائم ہیں۔ فوجی بغاوت اور متعدد ذرائع سے منتخب وزرائے اعظم کی نا اہلی نے تمہارے عزم کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی لیکن تم نے اپنے آپ کو ایک حقیقی جمہوری طاقت کے طور پر دیکھنے کے نظریے سے کبھی دستبرداری نہیں ہوئے۔ ایک بھی منتخب وزیر اعظم ان کی پوری مدت پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہوا لیکن تم نے کبھی بھی اپنے لئے خود  آمریت کے نظریہ کی پاسداری نہیں کی۔

میرے پیارے پاکستان  کیا تم نے کبھی خود کلامی کی ہے کہ تمہارے حکمران طبقے نے ریاست کی رٹ کے قیام، آئین کی بیعت، عمدہ نظم و نسق کے تناظر میں آپ کو ناکام کردیا ہے۔ مجھ میں  تمہاری  ذاتی اذیت کو دیکھنے کی جرت نہیں ہے لیکن تمہارے لیے دل سے میری دعا ہے۔

خدا کرے  موجودہ حکومت تمہاری امنگوں پر پورا اترے۔

خدا کرے اس کے بعد آںے والی اس بھی بہتر ہو۔

خدا کرے جب تم 173، 537، 773 سالوں کے ہو تو تمہاری حکومتیں تمہاری امنگوں سے بھی بڑھ کر ہوں۔

سالگرہ مبارک میری محبت

خدا کرے اگلے سال تمہاری تمام خواہشات پوری ہوں۔

Source: Gulf News

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button