پاکستانی خبریں

صدراتی آرڈیننس سے جزیروں کیلئے اتھارٹی کا قیام ، مودی نے جو کشمیر میں کیا وہ مرکزی حکومت سندھ میں کررہی ہے، بلاول بھٹو کا معنی خیز ردعمل

خلیج اردو
06 اکتوبر 2020
کراچی: پاکستان میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذرائعے پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے جاری آرڈیننس میں کہا گیا ہے کہ چونکہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس ابھی جاری نہیں اسی وجہ سے ہنگامی صورت حال میں صدر فوری طور پر اتھارٹی کے قیام کی منظوری دیتا ہے۔

آرڈیننس سے پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام کا مقصد آبی جزیروں میں مختلف نئے شہروں کی آبادکاری ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کو بائیپاس کرنے اور سندھ کے معاملات میں مرکز کی مداخلت کو اس اقدام سے تشبیح دی ہے جو بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے کیا تھا۔

اپنے ٹویٹر پیغام میں بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان آئی لینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قیام سے متعلق صدارتی آرڈیننس کی بھرپور مخالفت کرے گی۔ سندھ کے جزیروں پر اختیار پی ٹی آئی کا غیر قانونی اقدام ہے۔ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ مرکزی حکومت کے اس اقدام اور مودی کے مقبوضہ کشمیر میں اقدامات کے درمیان کیا فرق ہے؟ ہم قومی اسمبلی ، صوبائی اسمبلی اور سینیٹ میں اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔

ڈان ڈاٹ کام کے مطابق سابق چیئرمین سینیٹ سینیٹر میاں رضا ربانی نے اپنے ردعمل میں ہا ہے کہ مرکزی حکموت سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں پر قبضہ چاہتی ہے۔ یہ صوبوں کی ملکیت ہے اور ایسا کوئی اقدام آئین سے متصادم ہے۔ انہوں نے اسے 18 ویں آئینی ترمیم کی پامالی قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبوں کو منظم طریقے سے حقوق سے محروم رکھا جارہا ہے۔

Source : Dawn

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button