پاکستانی خبریں

سفری پابندیوں کے باعث متعدد پاکستانی ورکرز متبادل راستوں سے خلیجی ممالک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں

 

خلیج اردو آن لائن:

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث چونکہ پاکستان اور متعدد خلیجی ممالک کے درمیان سفر پر پابندی عائد ہے، لیکن متعدد پاکستانی ورکرز خلیجی ممالک پہنچنے اور دوبارہ سے اپنی نوکریوں پر جانے کے لیے متبادل راستوں کی تلاش میں ہیں۔

متعدد خلیجی ممالک کی جانب سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت سفری پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ جس کی وجہ سے ان ممالک میں محنت مزدوری کرنے والے متعدد پاکستانی پاکستان میں پھنسے ہوئے ہیں اور اگر وہ جلد از جلد واپس نہیں جا پاتے تو انہیں نوکریوں سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔

تاہم، حیران کن طور پر سعودی عرب جانے والوں کے لیے افغانستان ایک متبادل لیکن پر خطر راستے کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اور سعودی عرب پہنچنے کے لیے بے چین پاکستان ورکرز افغانستان میں سیکیورٹی کے خطرے کے باوجود افغانستان کے ذریعے سعودی عرب پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سعودی عرب پہنچنے کے لیے پاکستانی ورکرز پہلے کابل جاتے ہیں اور وہاں دو ہفتے گزارنے کے بعد سعودی عرب کی پرواز لیتے ہیں۔

نجی خبررساں ادارے گلف ٹو ڈے نے براستہ افغانستان سعودی عرب جانے کے لیے ٹرانزٹ ویزا حاصل کرنے کے لیے اسلام آباد میں افغانستان کی ایمبیسی کے باہر لائن میں کھڑے ایک الیکٹرکل انجینئر سے بات کی تو اس کا کہنا تھا کہ "میں کچھ پریشان ہوں لیکن میں یہ خطرہ مول لینے کے لیے تیار ہوں”۔

اس نے مزید بتایا کہ وہ سعودی عرب میں اپنے نوکری سے پاکستان میں اپنے خاندان کو 50 ہزار سے 1 لاکھ روپے ماہانہ بھیج پاتا ہوں۔

خیال رہے کہ عرب ممالک میں پاکستان باشندوں کی ایک بڑی تعداد روزگار حاصل کرنے کے لیے جاتی ہے اور سالانہ کروڑوں ڈالر کا زرمبادلہ پاکستان بھیجتی ہے۔

اسلام آباد میں افغانستان کی ایمبیسی کے ایک عہدیدار نے خبررساں ادارے کو بتایا ہےکہ گزشتہ ایک مہینے میں ہزاروں پاکستانیوں افغانستان کے ٹرانزٹ ویزوں کے لیے درخواستیں دی  ہیں۔

رپورٹ کے مطابق براستہ افغانستان سعودی عرب جانے کا یہ منصوبہ قابل بھروسہ نہیں ہے کیونکہ گزشتہ دنوں ہی افغانستان سے سعودی عرب جانے والی واحد پرواز بھی کینسل کر دی گئی تھی۔

جبکہ اسپیشل پروازیں صرف ان 1300 ڈالر کرائے پر صرف ان ورکرز کے لیے دستیاب تھیں جن کے پاس پہلے سے ہی سعودی رہائشی ویزا موجود تھا۔

تاہم، اس پر خطرے راستے کو استعمال کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ ان پاس کوئی اور راستہ موجود نہیں ہے اور جلد از جلد واپس پہنچنا چاہتے ہیں تاکہ اپنی نوکریوں پر جا سکیں اور اپنے خاندانوں کی مالی مدد کر سکیں۔

Source: Gulf Today

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button