
خلیج اردو
پشاور: پاکستان کے شمال مغربی سرحدی صوبہ خیبرپختونخوا کے پھولوں کا شہر پشاور آج بم دھماکے سے لر اٹھا جہاں اہل تشیع مسلک سے تعلق رکھنے والے مسجد میں دھماکے سے پاکستان کا امن ایک بار پھر داؤ پر لگا۔
پولیس کے مطابق پاکستان کے صوبائی دارلحکومت پشاور میں آج جمعہ کے روز ایک مسجد میں ہونے والے بم دھماکے میں 56 افراد شہید اور 200 کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔
مقامی پولیس کے عہدیدار وحید خان کا کہنا ہے کہ دھماکہ اس وقت ہوا جب پشاور کے کوچہ رسالدار کے ایک مسجد میں نمازی جمعہ کی نماز کیلئے اکھٹے ہوئے تھے۔ دھماکے کے بعد ہر طرف لاشیں بکھریں پڑیں تھی اور اس حوالے سے سوشل میڈیا پر دلخراش ویڈیوز اور تصایر سامنے آئیں ہیں۔
ایمبولینس کو فوری طور پر امدادوی کاروائیوں کیلئے بھیجا گیا۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی جبکہ زخمیوں اور میتوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال پہنچایا گیا۔
خطے میں جنگ زدہ افغانستان کے قریب واقعے اس صوبے میں دہشتگردی کے اس واقعے کی فی الحال کسی شدت پسند گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی لکن شدت پسند گروہ نام نہاد دولت اسلامیہ اور تحریک طالبان پاکستان ایسی کارروائیوں کیلئے مشہور ہے۔
دھماکے کے بعد پاکستان کے وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے وزیر اعظم عمران کان سے ملاقات کی۔ شیخ رشید نے سیکیورٹی صورتحال سے وزیراعظم کو آگاہ کیا۔
میڈیا کو جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں ملک کی سیکورٹی معاملات پر تفصیلی مشاورت ہوئی۔ وزیر اعظم کی وزیر داخلہ کو امن وامان یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم سمیت ملک کی سیاسی اور دیگر اہم شخصیات نے بم دھماکے کی مذمت کی ہے۔
Source: Khaleej Times







