
خلیج اردو
اسلام آباد: پاکستان کے وفاقی وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ اس سے پہلے کبھی اتنا مشکل اور گمبھیر وقت نہیں دیکھا، پاکستان اس وقت مشکل مقام پر کھڑا ہے، 3ہزار ارب روپے کا گردشی قرضہ اور سبسڈی بجٹ پر سب سے بڑا بوجھ ہے ۔۔
وزیراطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، وزیرمملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا اور چیئرمین ایف بی آر عاصم احمد کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہاکہ ہم نے مشکل وقت میں بجٹ دیا ہے۔ بولے، آئندہ مالی سال 4598 ارب روپے کے مالی خسارے کا سامنا ہو گا جبکہ 3950 ارب روپے قرضوں اور سود کی ادائیگی کے لیے ادا کرنے کا تخمینہ ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہاکہ اگلے مالی سال میں توانائی شعبے کیلئے کل سبسڈی 1600 ارب روپے ہے جبکہ گیس کے شعبے میں سبسڈی 400 ارب اور گردشی قرضہ 1400 ارب روپے ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جس حال میں ہماری معیشت ہے ہم اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
مسٹر اسماعیل اپنی پریس کانفرنس میں باربار یقین دلاتے رہے کہ انہوں نے عام آدمی پر کم بوجھ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے صحافیوں کے سوالات کے کچھ خاص تسلی بخش جوابات نہیں دیئے۔
وزیر خزانہ نے کہا پہلا ہدف سری لنکا والی صورتحال سے بچنا ہے، پیٹرول مہنگا کر کے پیسہ گھر نہیں لیکر جا رہے،نہیں لگتا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوں گی، پی ڈی ایل کا ٹیکس لگے گا تو مہنگائی میں اضافہ ہوگا۔ پٹرول مہنگا ہوگا تو پیسے قوم پر ہی خرچ ہوں گے۔
مفتاح اسماعیل کاکہناتھاکہ کوئی چیز چھپا نہیں رہے، ہم نے کوشش کی ہے کہ امیر لوگوں کا حصہ ملک کو مشکل سے نکالنے میں استعمال کریں، وزیراعظم کمپنیوں کو نجکاری کی طرف لے جانا وزیراعظم کا عز م ہے۔
انہوں نے مختلف ریافرمز کا بھی ذکر کیا۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں نجکاری کا بھی عندیہ دیا۔ تاہم انہوں نے غیر ضروری تنقید سے بچنے کیلئے اس کی تفصیلات نہیں بتائی۔







