
خلیج اردو
دبئی: کیا واقعی آج کی نوجوان نسل (Gen-Z) تیزی سے بڑھاپے کی جانب بڑھ رہی ہے یا صرف جلدی بوڑھا ہونے کے خوف میں مبتلا ہے؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنریشن زی جسمانی طور پر پچھلی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بوڑھی نہیں ہو رہی، تاہم ذہنی دباؤ، اسکرین ٹائم، نیند کی کمی اور ماحولیاتی آلودگی ان کی جلد پر منفی اثرات ڈال رہے ہیں۔
سرکیڈیا سامینا کے منیجنگ ڈائریکٹر جتن جگّی نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ “Gen-Z میں عمر کے اثرات سے بچاؤ اور جلد کی صحت کے حوالے سے آگاہی میں اضافہ ہوا ہے، زیادہ تر نوجوان جھریوں، جلد کی ساخت اور لچک کے حوالے سے پریشان نظر آتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ اگرچہ جنریشن زی تیزی سے عمر رسیدہ نہیں ہو رہی، لیکن ان کا طرز زندگی جلد پر اثر انداز ہو رہا ہے، کیونکہ وہ کم عمری سے ہی دباؤ، نیند کی کمی اور مسلسل اسکرین ایکسپوژر کا سامنا کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ڈاکٹر محمد کلا نے کہا کہ جنریشن زی میں جمالیاتی علاج کے رجحان میں کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا، البتہ سوشل میڈیا نے خوبصورتی کے غیر حقیقی معیارات متعارف کرا دیے ہیں جس کی وجہ سے نوجوان کم عمری میں ہی بالغ نظر آنے کی دوڑ میں شامل ہو گئے ہیں۔
ڈاکٹر کلا کے مطابق کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں جو یہ ثابت کرے کہ Gen-Z جسمانی طور پر تیزی سے بوڑھی ہو رہی ہے۔ “سوشل میڈیا فلٹرز نے نوجوانوں کے حسن کے معیارات کو مسخ کر کے ایک غیر حقیقی تصور پیدا کر دیا ہے۔”
22 سالہ میڈیا پروفیشنل لالی مینڈوزا کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر نوجوانی برقرار رکھنے کا دباؤ ذہنی طور پر نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد بازی میں اینٹی ایجنگ مصنوعات استعمال کرنے سے جلد کو نقصان پہنچ سکتا ہے، خاص طور پر جب ان کا استعمال کم عمری میں کیا جائے۔
جتن جگّی نے خبردار کیا کہ ضرورت سے زیادہ سکن کیئر مصنوعات یا سخت علاج جلد کی بیرونی تہہ کو نقصان پہنچا کر حساسیت پیدا کر سکتے ہیں، جو کہ جلد کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔







