
خلیج اردو
ایبٹ آباد میں لیڈی ڈاکٹر وردہ کے قتل کا کیس سامنے آیا ہے جس کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر وردہ کی موت گلا گھونٹنے سے ہوئی اور ان کے جسم پر واضح تشدد کے نشانات بھی پائے گئے۔ ان کے چہرے پر سوجن، ناک سے خون بہنا، بالوں میں مٹی کے ذرات، ہونٹوں پر زخم، اور ہتھیلی و دائیں کندھے پر نیل کے نشانات ملے۔ میڈیکل رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ڈاکٹر وردہ کے گلے میں تشدد کے آثار تھے اور موت واقعہ سے تقریباً 72 گھنٹے قبل ہوئی تھی۔
واقعے کے بعد ملزم وحید اور اس کی بیوی کو گرفتار کیا گیا، جبکہ مقدمے میں دہشتگردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ ملزم وحید کی دکان بلے دی ہٹی سیل کی گئی ہے۔ اس کیس میں پولیس کی کارکردگی پر شدید تنقید ہوئی، کیونکہ ڈاکٹر وردہ کو بازیاب کروانے کے بجائے جرگے کیے گئے اور اس معاملے میں ملوث خاتون کو ایک بار گرفتار کر کے چھوڑ دیا گیا تھا۔
ڈاکٹر وردہ کے قتل کے خلاف ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف نے شدید احتجاج کیا اور خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں میں ہسپتالوں کی اوپی ڈی سروسز بند کر دی گئیں۔ ایوب ٹیچنگ ہسپتال کے ڈاکٹروں، نرسنگ، پیرا میڈیکل سٹاف اور کلاس فور یونین نے دوبارہ شاہراہ ریشم بلاک کر دی، اور کہا کہ اگر ڈاکٹر وردہ کو انصاف نہ ملا تو وہ آخری حد تک جائیں گے۔
ڈاکٹر وردہ کی تدفین بھی کر دی گئی، جس میں اہلخانہ، رشتہ داروں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔






