
خلیج اردو
اسلام آباد:خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات پر غیر اعلانیہ پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہمارا آئینی اور سیاسی حق ہے جسے پامال کیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اسمبلی توڑنے کا اختیار صرف بانی پی ٹی آئی کے پاس ہے اور جب وہ کہیں گے اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ملاقات نہیں ہوتی ہم معمول کے معاملات پر کوئی پیش رفت نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی کو جواز بنا کر ہمیں ایسے سلوک کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جیسے ہم کوئی دہشت گرد ہوں۔ کل بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر سپریم کورٹ میں پیش ہوا اور بجٹ بھی صرف آئینی بحران سے بچنے کے لیے منظور کیا گیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آئی ایم ایف سے ابھی مزید معاملات طے ہونا ہیں اور ہم اپنے صوبے کے حالات کو مدِنظر رکھ کر ہی فیصلے کریں گے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ہم کسی فنانس میٹنگ میں شریک نہیں ہوں گے۔
اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے دیگر رہنماؤں عمر ایوب، اسد قیصر اور دیگر نے بھی گفتگو کی۔ عمر ایوب نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اپنی معاشی ٹیم سے ملاقات کے خواہاں ہیں اسی لیے ہم یہاں آئے، مگر ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
اسد قیصر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو ناجائز طور پر جیل میں رکھا گیا ہے، عدلیہ پر دباؤ ہے، اور ججز کو آزادانہ کام کرنے نہیں دیا جا رہا۔ ہم اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور مزاحمت کا راستہ اپنائے رکھیں گے۔






