
خلیج اردو
اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ پہلے ملٹری کورٹس میں صرف آرمڈ فورسز کے ممبران کا ٹرائل ہوتا تھا، بعد ازاں آرمی ایکٹ میں سیکشن ڈی شامل کی گئی، جس کے تحت آرمڈ فورسز اور سویلینز کے گٹھ جوڑ کی بنیاد پر فوجی عدالتوں میں ٹرائل ممکن ہوا۔
جسٹس جمال مندوخیل نے مزید کہا کہ سوال صرف اتنا ہے کہ اگر سویلین کو بنیادی حقوق حاصل ہیں تو کیا ان کا ٹرائل فوجی عدالتوں میں ہو سکتا ہے؟ اس مقصد کے لیے آئین کے آرٹیکل 8 کو مکمل طور پر پڑھنا ہوگا۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ فوجداری قانون کے تحت گالی دینا بھی جرم ہے اور اس کی سزا متعین ہے، تو کیا آرمڈ فورسز کے کسی ممبر کو گالی دینے پر سویلین کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹس میں ہوگا؟
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ اپیل میں بار بار ایف بی علی کیس کا حوالہ دیا جا رہا ہے، لیکن ایف بی علی کیس کو اس کیس سے نہیں ملایا جا سکتا کیونکہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے۔
وکیل خواجہ حارث نے دلائل میں کہا کہ ایف بی علی کیس میں بنیادی حقوق کا سوال نہیں تھا، بلکہ ایک ریٹائرڈ آرمی افسر نے سپریم کورٹ میں موقف اپنایا تھا کہ وہ سویلین ہے، اس کا ٹرائل نہیں ہو سکتا۔ تاہم، سپریم کورٹ نے اس وقت قرار دیا تھا کہ سویلین کا ٹرائل بھی ممکن ہے۔







