پاکستانی خبریں

سویلینز کا کورٹ مارشل ممکن نہیں، 9 مئی کے مقدمات میں دی گئی سزائیں کالعدم قرار

خلیج اردو
اسلام آباد:سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس میں جسٹس جمال مندوخیل نے 36 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سویلین افراد کا کورٹ مارشل ممکن نہیں، اور 9 مئی کے واقعات میں جن سویلینز کو فوجی عدالتوں سے سزائیں دی گئیں وہ کالعدم قرار دی جاتی ہیں۔

جسٹس مندوخیل نے لکھا ہے کہ پاکستان آرمی ایکٹ ایک مخصوص قانون ہے جو صرف مسلح افواج کے اہلکاروں پر لاگو ہوتا ہے، اور اس کا مقصد فوجی نظم و ضبط کو برقرار رکھنا ہے۔ تاہم عام نوعیت کے جرائم کے لیے عمومی قوانین موجود ہیں جو تمام شہریوں پر لاگو ہوتے ہیں، اور ان کا ٹرائل عام عدالتوں میں ہونا چاہیے۔

اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ اگر کوئی فوجی اہلکار عام جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے خلاف عام عدالت اور فوجی عدالت دونوں کا دائرہ اختیار بنتا ہے، مگر سویلینز پر یہ اطلاق نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت عدلیہ اور ایگزیکٹو دو علیحدہ ادارے ہیں، اور عدلیہ کا اختیار کسی انتظامی ادارے کو سونپا نہیں جا سکتا۔ اگر فوج عدالتی اختیارات استعمال کرنے لگے تو عوام کا فوج پر اعتماد متاثر ہو گا۔

اختلافی نوٹ میں اس تاثر کو بھی غلط قرار دیا گیا کہ اگر فوجداری عدالتیں دہشت گردی کا خاتمہ نہیں کر سکتیں تو فوجی عدالتیں یہ مسئلہ حل کر سکتی ہیں۔ جسٹس مندوخیل نے سوال اٹھایا کہ کیا 21ویں آئینی ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں سے سزاؤں کے باوجود دہشت گردی ختم ہو گئی؟

ان کا کہنا تھا کہ فوج کا کام ملک کا دفاع ہے، عدلیہ کے فرائض انجام دینا نہیں۔ فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل نہ صرف آئین کے خلاف ہیں بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔

اختلافی نوٹ کے مطابق وفاقی، پنجاب اور بلوچستان حکومتوں کی طرف سے فوجی عدالتوں کے حق میں دائر اپیلیں اکثریتی فیصلے سے مختلف رائے کی بنیاد پر مسترد کی جاتی ہیں۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button