پاکستانی خبریں

ماں بیٹی کو قتل کیا، ٹوکے اور لکڑی کی مڈھی کی مدد سے ان کی لاشوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کیے اور ایک ایک کر کے نہر میں بہا دیے،لاہور میں ماں بیٹی کے اندوہناک قتل کا معمہ، مرکزی ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک

بی بی اردو
لاہور: لاہور میں ماں اور بیٹی کے گمشدگی کے بعد قتل اور لاشوں کے ٹکڑوں کو نہر میں بہانے کے واقعہ میں مرکزی ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت نے ایک نیا معمہ کھڑا کر دیا ہے۔ یہ واقعہ جولائی 2024 میں پیش آیا، جب لاہور کے علاقے راجہ بولا ہیر سے نورین شہزادی نامی بیوہ خاتون غائب ہو گئیں۔ رات کے وقت انھیں اپنے موبائل فون پر ایک کال آئی تھی، جس کے بعد وہ گھر والوں کو بتا کر نکلیں کہ ایک جاننے والے شخص سے مل کر واپس آ جائیں گی، مگر پھر وہ واپس نہیں آئیں۔

ان کی والدہ، 58 سالہ کوثر پروین اور باقی اہل خانہ نے انھیں تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن ان کا کوئی سراغ نہ ملا۔ کوثر پروین نے پولیس کو اطلاع دی، لیکن پولیس نے اس پر کوئی خاص کارروائی نہیں کی اور کہا کہ وہ خود تلاش کریں۔ اس کے بعد نورین کے موبائل فون پر مزید کالز آئیں لیکن وہ گمشدہ رہیں، اور آخرکار ان کی والدہ بھی غائب ہو گئیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کیا، مگر دونوں خواتین کا سراغ نہیں مل سکا اور کیس کی تحقیقات دھیرے دھیرے رک گئیں۔

یہاں تک کہ پنجاب پولیس کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس فاروق اصغر اعوان کو ایک مخبر سے اطلاع ملی کہ ماں بیٹی کو قتل کر دیا گیا ہے اور ان کی لاشوں کے ٹکڑے نہر میں بہا دیے گئے ہیں۔ اس اطلاع پر تحقیقات شروع ہوئیں اور پولیس نے محمد یوسف نام کے ملزم کو گرفتار کیا، جس نے اعتراف کیا کہ اس نے نورین شہزادی اور ان کی والدہ کو قتل کیا تھا۔ ملزم کے مطابق اس نے دونوں کی لاشوں کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کیا اور نہر میں بہا دیا۔

ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے نورین شہزادی کو فیض آباد میں اپنے ڈیرے پر بلایا، جہاں اسے نشہ آور چیز دی جس سے وہ بے ہوش ہو گئیں۔ اس کے بعد ملزم نے ان کے ساتھ زیادتی کی اور پھر انھیں بے ہوش حالت میں قتل کر دیا۔ بعد میں اس نے اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر ان کی لاش کے ٹکڑے کر کے نہر میں بہا دیے۔

ملزم نے پولیس کو بتایا کہ اس نے نورین کے قتل کو "غیرت کے نام پر” قتل کا رنگ دینے کی کوشش کی، کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ نورین شہزادی کی ملزم کی بیوی کے ساتھ دوستی تھی اور وہ ان کی زندگی میں مسائل پیدا کر رہی تھی۔ ملزم نے مزید بتایا کہ اس کی بیوی نے اس کے ساتھ خلع لینے کی درخواست دی تھی اور وہ نورین کو اس کا ذمہ دار سمجھتا تھا۔

کیا وجہ تھی کہ اس نے نورین کی والدہ کو بھی قتل کیا؟ پولیس کے مطابق ملزم نے بتایا کہ کوثر پروین اس کے خلاف مسلسل شکایت کر رہی تھی اور اسے لگتا تھا کہ وہ پولیس کی مدد سے اس کے جرم کا سراغ لگا لے گی۔ اس لیے اس نے کوثر پروین کو بھی قتل کر ڈالا۔

ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب پولیس نے اس کی گرفتاری کی کوشش کی۔ ملزم محمد یوسف نے پولیس کو دھکا دے کر خود کو آزاد کروایا اور چند دن بعد اس کا پولیس سے سامنا ہوا۔ پولیس اور ملزم کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں ملزم زخمی ہوا اور ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ گیا۔

پولیس کے مطابق ملزم کے دو ساتھیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، اور ان سے مزید تفتیش جاری ہے۔ تاہم، اس کیس میں ایک بڑی مشکلات کا سامنا پولیس کو اس لیے ہے کہ قتل کی لاشیں نہیں ملیں، جس کی وجہ سے شواہد کمزور ہو گئے ہیں اور یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ ملزم نے واقعی قتل کیا تھا۔

فوجداری معاملات کے ماہر وکیل مستنصر نذر نے اس کیس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ قانون کے مطابق لاش کی موجودگی کے بغیر قاتل کو سزا دلوانا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ عدالتیں اکثر اقبال جرم یا ثبوت کے طور پر ایسی شہادتوں کو تسلیم نہیں کرتیں۔

یہ واقعہ ایک اور طرف اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ زیر حراست ملزمان جن کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہوتے ہیں، وہ پولیس مقابلوں میں مارے جاتے ہیں تاکہ ان کے خلاف قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button