خلیج اردو – راولپنڈی میں پریس بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہماری تیاری میں کوئی کمی نہیں آئی ہے اور ہم بھرپور طریقے سے تیار ہیں، بھارت رافیل لے آئے یا ایس فور 100، ہمارے پاس ہماری اپنی تیاری ہے جس کا جواب دیں گے۔
واضح رہے کہ بھارت نے 9.4 ارب ڈالر مالیت کے اس معاہدے میں فرانس سے 36 رافیل لڑاکا طیارے خریدے ہیں اور فرانس 2021 کے آخر تک یہ تمام طیارے فراہم کرے گا جبکہ حال ہی میں ریاست ہریانہ کی امبالا ایئر بیس پر 5 رافیل طیارے پہنچا دیئے گئے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی سیز فائر کی اپیل کے باوجود بھارت نے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر اپنی روایتی کارروائیاں جاری رکھیں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا۔
انہوں نے بتایا کہ امسال اب تک بھارت نے ایک ہزار 927 مرتبہ سیز فائر معاہدے کے خلاف ورزی کی۔
میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ‘بھارت ریاستی دہشت گردی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں ایک سال سے نسل کشی اور مقبوضہ (خطے) میں انسانی حقوق کی پامالی کررہا ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق بین الاقوامی میڈیا نے مقبوضہ وادی میں بھارت کے اقدامات کو بے نقاب کردیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کشمیر میں انسانی حقوق پر زور دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بطور پیشہ وارانہ آرمی بھارت کی صرف ان پوسٹ کو نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں سے سیز فائر کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ 22 جولائی کو بین الاقوامی میڈیا کو ایل او سی تک مکمل رسائی دی گئی اور متاثرین سے بات چیت کی، اس کے برعکس بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں یو این مبصرین یا بین الاقوامی میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں ہے۔
خیال رہے کہ بین الاقوامی میڈیا نمائندگان نے ایل او سی کے چری کوٹ سیکٹر پر بھارتی سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیوں سے متاثرہ افراد سے ملاقات کی اور صورتحال کا مشاہدہ کیا تھا اور ایل او سی کے ساتھ موجود بھارتی فوجیوں کی چوکیاں بھی دیکھی تھیں
سورس ، ڈان نیوز







