پاکستانی خبریں

ارتھ آور محض ایک گھنٹے کے لیے بجلی بند کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ زمین کے تحفظ کے عزم کی علامت ہے

خلیج رادو
اسلام آباد: صدر مملکت آصف علی زرداری کا ارتھ آور اور عالمی یوم آب 2025 ء پر پیغام میں کہنا ہے کہ
پاکستان عالمی برادری کے ساتھ توانائی کے تحفظ، ماحولیاتی استحکام اور موسمیاتی اقدامات کے عزم کی تجدید کرتا ہے۔ ارتھ آور پر غیر ضروری لائٹس بند کرنا توانائی کے استعمال اور کاربن فٹ پرنٹ کم کرنے کے عزم کی علامت ہے، صدر مملکت نے کہا۔

انہوں نے کہا کہ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور توانائی شعبے کے مسائل سے پاکستان کی معیشت اور ماحول کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ توانائی کے محفوظ مستقبل کے لیے بجلی، ایندھن کی بچت اور قابل تجدید توانائی کا فروغ ضروری ہے۔ صدر مملکت نے مزید کہا کہ بجلی بچانے، توانائی اور ایندھن بچانے والے آلات کے استعمال اور پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ کی ضرورت ہے۔

رواں سال ارتھ آور عالمی یوم آب 2025 کے ساتھ منایا جا رہا ہے اور صدر مملکت نے اس موقع پر پاکستان میں پانی کی قلت کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے صاف اور پینے کے لیے محفوظ پانی کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

صدر مملکت نے 2022 کے تباہ کن سیلاب کو موسمیاتی تبدیلی کے ہمارے ملک پر مہلک اثرات کی واضح مثال قرار دیا اور کہا کہ آبی ذخائر کے تحفظ اور پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈرپ ایریگیشن، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے اور پانی کے ضیاع کو روکنے کو زرعی ترقی کے لیے لازم قرار دیا۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تحفظ، توانائی کے تحفظ اور آبی وسائل کی پائیداری کے لیے پرعزم ہے اور توانائی، ایندھن اور پانی کے تحفظ کے لیے ہر پاکستانی کو ذمہ داری لینا ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار طرز زندگی اپنا کر ہم پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے محفوظ بنا سکتے ہیں۔

نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ آج دنیا بھر میں پانی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے جس کا مقصد لوگوں میں پانی کی اہمیت اور تحفظ کے بارے میں آگاہی پھیلانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان ان 10 ممالک میں شامل ہے جنہیں شدید پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال پاکستان خشک سالی کا شکار ہو جائے گا، اور پنجاب و سندھ کے لیے 30 سے 35 فیصد پانی کی قلت کا انتباہ جاری کر دیا گیا ہے۔

شیری رحمان نے مزید کہا کہ تربیلا اور منگلا ڈیم چند دن میں ڈیڈ لیول پر پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور پانی کی کمی کے باعث رواں ربیع سیزن کی فصلیں شدید متاثر ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں 40 فیصد کم بارشوں اور برفباری کے نتیجے میں خشک سالی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔

آج 22 مارچ کو ارتھ آور کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس کی غیر ضروری روشنیاں بند رہیں گی۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ ارتھ آور محض ایک گھنٹے کے لیے بجلی بند کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ زمین کے تحفظ کے عزم کی علامت ہے۔ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے، اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اسپیکر نے عوام سے کہا کہ وہ ماحولیاتی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور پائیدار طرز زندگی اپنائیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے ڈبلیو ڈبلیو ایف کے کردار کو سراہتے ہوئے ماحولیاتی تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔

متعلقہ مضامین / خبریں

Back to top button