
خلیج اردو
اسلام آباد: پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی راہ میں ایک بار پھر رکاوٹیں کھڑی ہونے لگیں، وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ ملک بھر میں 2 اراکین قومی اسمبلی، 5 اراکین صوبائی اسمبلی سمیت 85 ہزار والدین نے اپنے بچوں کو انسداد پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا ہے۔
وزیر صحت کے مطابق صرف کراچی کے ضلع شرقی سے 27 ہزار والدین نے پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا کہ پولیو کے قطرے نہ پلانے والا شخص مجرم ہے اور اپنے ہی بچوں کا دشمن بن رہا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے یاد دہانی کروائی کہ پاکستان اور افغانستان کے سوا پوری دنیا سے پولیو کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ افغانستان سے بھی پولیو ختم ہو جائے اور پاکستان دنیا کا واحد ملک رہ جائے جہاں یہ موذی مرض موجود ہو۔
وزیر صحت نے کہا کہ کینسر کا علاج ہے لیکن پولیو کا کوئی علاج نہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہر بچہ پولیو کے قطرے ضرور پئے تاکہ عمر بھر کی معذوری سے بچایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ 21 اپریل سے ملک گیر انسداد پولیو مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے، والدین سے اپیل ہے کہ وہ اپنی قومی ذمہ داری نبھائیں اور بچوں کو حفاظتی قطرے ضرور پلائیں۔






