خلیج اردو
23 اپریل 2025
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں یوٹیلیٹی اسٹورز کو ممکنہ سہولیات دینے کے معاملے پر تفصیلی بحث کی گئی۔ اجلاس کے دوران چیئرمین ایف بی آر نے یوٹیلیٹی اسٹورز کو سہولیات دینے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایف بی آر نے کوئی سہولت دی تو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی ہو سکتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ایف بی آر کے ذریعے آنے والی رقوم صرف وفاق نہیں بلکہ صوبوں کو بھی منتقل ہوتی ہیں، اس لیے یوٹیلیٹی اسٹورز کا معاملہ احتیاط کا متقاضی ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے مزید کہا کہ یوٹیلیٹی اسٹورز سے متعلق کمیٹی کی سفارشات وزیر خزانہ کے سامنے رکھی جائیں گی، اور اصل فیصلہ سازی کا فورم آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی (ADRC) ہے۔
اجلاس کے دوران وزیر صنعت و پیداوار ہارون اختر نے نشاندہی کی کہ اس وقت یوٹیلیٹی اسٹورز کا دو اعشاریہ 6 ارب روپے کا کلیم موجود ہے، اور سوال اٹھایا کہ کیا ایف بی آر نے اس کلیم کے خلاف اپیل کی ہے؟ اس پر ایف بی آر حکام نے وضاحت کی کہ اپیل دائر کی جا چکی ہے۔
رکن کمیٹی مہرین رزاق بھٹو نے یوٹیلیٹی اسٹورز کے ساتھ وابستہ ہزاروں افراد کے روزگار کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی قانونی یا مالی گنجائش موجود ہو تو اسٹورز کو سہولت ضرور دی جائے، تاکہ عوامی سطح پر فائدہ پہنچایا جا سکے۔






