
خلیج اردو
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کر کے پاکستان پیپلز پارٹی کو پیش کر دیا ہے اور اس سے باضابطہ حمایت مانگ لی ہے۔ مجوزہ ترمیم میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) میں صوبوں کے حصے کے تحفظ کو ختم کرنے، آئینی عدالت کے قیام، ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی بحالی، ججوں کے تبادلوں کے اختیارات کی منتقلی اور آرٹیکل 243 میں تبدیلی جیسے نکات شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق ترمیمی مسودے میں تعلیم اور آبادی کی منصوبہ بندی کے اختیارات وفاق کو واپس دینے کی تجویز بھی شامل ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کی تقرری کے معاملے پر جاری تعطل کو ختم کرنے کی شق بھی ترمیم کا حصہ بنائی گئی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے اس سلسلے میں حتمی فیصلہ کرنے کے لیے اپنی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس 6 نومبر کو طلب کر لیا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے تصدیق کی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کا ایک وفد صدر آصف علی زرداری اور ان سے ملاقات کے لیے آیا تھا، جس میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں پیپلز پارٹی کی حمایت کی درخواست کی گئی۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پارٹی صدر آصف علی زرداری کی دوحہ سے واپسی کے بعد اس آئینی ترمیم پر اپنا حتمی فیصلہ کرے گی۔






