
خلیج اردو
اسلام آباد: سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلین افراد کے ٹرائل کے خلاف دائر انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت پیر تک ملتوی کر دی گئی۔ سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی آئندہ سماعت پر بھی اپنے دلائل جاری رکھیں گے۔
آج کی سماعت کے دوران وکیل فیصل صدیقی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ کمانڈنگ افسران کی جانب سے ملزمان کی حوالگی کے لیے دی گئی درخواستوں میں پہلے ہی ان پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی دفعات کا اطلاق کر دیا گیا تھا، جبکہ انسداد دہشت گردی عدالت نے بغیر مکمل تفتیش کے ملزمان کی حوالگی کے احکامات جاری کیے۔
انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ انسداد دہشت گردی عدالت کے ایڈمنسٹریٹو جج کو یہ اختیار حاصل نہیں تھا کہ وہ ملزمان کو فوجی عدالتوں کے حوالے کرے، یہ فیصلہ صرف عدالت ہی دے سکتی ہے۔
دوران سماعت جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملزمان کی حوالگی تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی ممکن ہو گی۔ جسٹس محمد علی مظہر نے اس نکتے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی اور لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالتوں کے فیصلے ایک جیسے لگتے ہیں، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ انسداد دہشت گردی عدالتوں کے ججز کی انگریزی کے کافی مسائل ہیں۔
وکیل فیصل صدیقی نے آرمی ایکٹ کے سیکشن 59 (1) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فوجی افسران کی سول عدالتوں سے کسٹڈی لی جا سکتی ہے، لیکن یہ اصول سویلینز پر لاگو نہیں ہوتا۔ جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ میرے حساب سے تو 59 (4) کا اطلاق بھی صرف ان افراد پر ہوتا ہے جو آرمی ایکٹ کے تابع ہوں۔
فیصل صدیقی نے اپنے دلائل میں احمد فراز کیس کے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا، جس پر جسٹس مسرت ہلالی نے دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ احمد فراز کی کونسی نظم پر کیس بنایا گیا تھا، مجھے تو سب یاد ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بطور وکیل جب میں کیس ہارتی تھی تو بار میں جا کر بہت شور کرتی تھی، جس پر جسٹس محمد علی مظہر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ "جج بن کر بھی آپ ٹرک ڈرائیور والا کام کر رہی ہیں”، جس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔
اسی دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے جسٹس مسرت ہلالی سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا، "کیا آپ بھی ٹرک چلاتی ہیں؟” جس پر جسٹس مسرت ہلالی نے ہنستے ہوئے جواب دیا، "ٹرک تو میں چلا سکتی ہوں، میرے والد فریڈم فائٹر تھے، ان کی ساری زندگی جیلوں میں گزری۔”
جسٹس نعیم اختر افغان نے وکیل سے استفسار کیا کہ اگر آرمی ایکٹ کی دفعات کالعدم ہو جاتی ہیں تو ان کے دلائل غیر متعلقہ ہو جائیں گے، جبکہ جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ وکیل بہت سی چیزوں کو مکس کر رہے ہیں۔
فیصل صدیقی نے عدالت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک "مینیو” پیش کر رہے ہیں، جس میں مختلف قانونی آپشنز موجود ہیں، عدالت کسی ایک کو چن سکتی ہے۔
اس پر جسٹس جمال مندوخیل نے کہا، "مینیو وہ منتخب کریں جو عملی طور پر ممکن بھی ہو”، جبکہ جسٹس مسرت ہلالی نے تبصرہ کیا، "آج بارش ہو رہی ہے، مینیو اسی حساب سے ہونا چاہیے۔”
سپریم کورٹ نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مزید سماعت پیر تک ملتوی کر دی۔






